آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت، ایرانی قیادت کا انصاف اور مزاحمت جاری رکھنے کا عزم

تہران (ایم این این): ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات کے دوسرے روز تہران میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جبکہ ایرانی عسکری اور سیاسی قیادت نے ان کے قتل کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ ایران آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کا حساب لینے کی جدوجہد کبھی ترک نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچانے کا قومی عزم غیر متزلزل ہے اور یہ کوشش نتیجہ حاصل ہونے تک جاری رہے گی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور مرحوم رہنما کے صاحبزادگان مسعود، مصطفیٰ اور میثم خامنہ ای سے تعزیت کی۔

نمازِ جنازہ ممتاز شیعہ عالم آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔ تاہم، آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی خدشات کے باعث تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق وہ 28 فروری کے حملے میں زخمی ہوئے تھے۔

اسی موقع پر آیت اللہ خامنہ ای کے خاندان کے چار دیگر افراد، جن میں ان کی 14 ماہ کی پوتی بھی شامل تھی، کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری تصاویر میں ننھی بچی کا تابوت مرحوم سپریم لیڈر کے تابوت کے ساتھ رکھا گیا۔

جنازے میں شریک افراد نے “ہم بدلہ لیں گے” درج پرچم اٹھا رکھے تھے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔ بعض شرکاء نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف پوسٹرز بھی اٹھائے، جبکہ تقریب کے مقررین نے بھی سخت جذباتی تقاریر کیں۔

تقریب میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی سمیت اعلیٰ عسکری شخصیات نے بھی شرکت کی۔

دریں اثنا، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ حالیہ امریکہ۔ایران مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے عسکری کامیابیوں کو محفوظ رکھتے ہوئے قومی مفادات کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ جنازے میں عوام کی غیر معمولی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی قوم مزاحمت اور اپنے شہید رہنما کے خون کا بدلہ لینے کے عزم پر متحد ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق تہران کا گرینڈ مصلیٰ مکمل طور پر بھر چکا ہے جبکہ سوگواروں کا ہجوم اطراف کی سڑکوں تک پھیل گیا۔ انتظامیہ نے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ مختصر وقت کے بعد مقام چھوڑ دیں تاکہ مزید افراد بھی اپنے مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں