اسلام آباد (ایم این این): حکومتِ پاکستان نے پیر کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے پہلے مرحلے کو مکمل کرتے ہوئے قومی ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول باضابطہ طور پر عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم سرمایہ کار کنسورشیم کے حوالے کر دیا۔
نجکاری کمیشن کے مطابق شیئر پرچیز اینڈ سبسکرپشن ایگریمنٹ (SPSA) کے تحت تمام قانونی، تجارتی اور ریگولیٹری شرائط پوری ہونے کے بعد پہلے مالیاتی مرحلے (فرسٹ فنانشل کلوزنگ) کی کامیاب تکمیل کے ساتھ انتظامی اختیارات منتقل کر دیے گئے ہیں۔
انتظامی کنٹرول کی منتقلی کے بعد نئے بورڈ نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر، منیجنگ ڈائریکٹر فاؤنڈیشن، کو نجکاری کے بعد پی آئی اے کا پہلا چیئرمین مقرر کر دیا۔
نجکاری کمیشن نے اس اہم معاہدے کی کامیاب تکمیل پر وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر متعلقہ حکومتی اداروں کے تعاون کو سراہا۔
کمیشن کے مطابق اس تاریخی نجکاری کے لیے 40 سے زائد ریگولیٹری، قانونی، مالیاتی اور تجارتی شرائط پوری کی گئیں، جن میں ملکی و بین الاقوامی ریگولیٹری منظوریوں، ٹیکس اصلاحات، کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ، طیاروں کی فنانسنگ، ایوی ایشن پالیسی میں تبدیلیاں، تجارتی معاہدوں کی تجدید اور ملازمین کے تحفظ سے متعلق اقدامات شامل تھے۔
پی آئی اے کی بین الاقوامی پروازوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب، کویت اور دیگر متعلقہ ممالک کی فضائی ریگولیٹری اتھارٹیز سے بھی ضروری منظوری حاصل کی گئی، جبکہ طیاروں کے لیزرز، فیول سپلائرز، تکنیکی خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور دیگر کاروباری شراکت داروں کی رضامندی بھی حاصل کی گئی۔
نجکاری کمیشن کے مطابق کامیاب بولی دینے والے کنسورشیم نے مجموعی طور پر 180 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے، جس میں 55 ارب روپے حکومت کو حصص کی خریداری کے عوض ادا کیے جائیں گے، جبکہ 125 ارب روپے پی آئی اے میں نئی سرمایہ کاری کے طور پر لگائے جائیں گے تاکہ ایئرلائن کی بحالی، جدید کاری اور توسیع ممکن بنائی جا سکے۔
پہلے مالیاتی مرحلے میں کنسورشیم نے حکومت کو 10 ارب روپے کی ابتدائی ادائیگی کی جبکہ 80 ارب روپے بطور نئی ایکویٹی پی آئی اے میں شامل کیے گئے تاکہ ایئرلائن کی مالی پوزیشن مضبوط ہو، بیڑے میں نئے طیارے شامل کیے جائیں، پروازوں کے نیٹ ورک میں توسیع کی جائے اور مسافروں کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔
معاہدے کے مطابق اگلے بارہ ماہ کے اندر دوسرے مالیاتی مرحلے میں مزید 45 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جبکہ کنسورشیم نے معاہدے میں موجود آپشن کے تحت حکومت کے باقی 25 فیصد حصص مزید 45 ارب روپے میں خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے اس معاہدے کو پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے شفاف نجکاری، معاشی اصلاحات اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
نئے شیئر ہولڈنگ ڈھانچے کے مطابق فاطمہ فرٹیلائزر سب سے بڑا شیئر ہولڈر بن گیا ہے جس کے پاس 34.1 فیصد حصص ہیں، جبکہ فوجی فرٹیلائزر کے پاس 33.9 فیصد حصص ہیں۔ لیک سٹی، سٹی اسکولز اور اے کے ڈی گروپ کے پاس 16،16 فیصد شیئرز ہیں، اور کنسورشیم کو قومی ایئرلائن کا مکمل انتظامی کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر نے کہا کہ اگرچہ پی آئی اے کی ملکیت تبدیل ہو چکی ہے، تاہم پاکستانی عوام کے اعتماد کو بحال کرنا اور عالمی معیار کی جدید فضائی سروس فراہم کرنا نئی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نئی قیادت قومی ایئرلائن کے تاریخی ورثے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک جدید، منافع بخش اور مسافر دوست ادارہ بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی۔



