شدید گرمی کی لہر نے امریکہ میں یومِ آزادی کی تقریبات متاثر کر دیں، متعدد ریاستوں میں پریڈز اور آتش بازی منسوخ

واشنگٹن (ایم این این): امریکہ کے وسطی اور مشرقی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید گرمی کی لہر نے یومِ آزادی (4 جولائی) کی تقریبات کو بری طرح متاثر کر دیا، جس کے باعث متعدد ریاستوں میں پریڈز، موسیقی کی تقریبات اور آتش بازی کے پروگرام منسوخ یا مؤخر کر دیے گئے۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پروگراموں میں واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل مال پر منعقد ہونے والا گریٹ امریکن اسٹیٹ فیئر بھی شامل تھا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کی آئندہ 250ویں سالگرہ کی تقریبات کا اہم حصہ تھا۔

شدید گرمی کے باعث درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر منتظمین نے جمعہ کی سہ پہر میلے کو عارضی طور پر بند کر دیا تاکہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

بعد ازاں نیشنل پارک سروس نے بھی اعلان کیا کہ شدید گرمی اور حفاظتی خدشات کے باعث واشنگٹن کی سالانہ یومِ آزادی پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے ہفتے کے روز 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے مساوی ہیٹ انڈیکس کی پیش گوئی کی تھی۔

ماہرین کے مطابق یہ شدید گرمی ایک طاقتور “ہیٹ ڈوم” یا بلند فضائی دباؤ کے نظام کے باعث پیدا ہوئی، جس نے گرم ہوا کو وسیع علاقے میں قید کر رکھا ہے اور نمی میں بھی غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔

شدید گرمی نے امریکی بجلی کے نظام کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا۔

امریکہ کے سب سے بڑے پاور گرڈ آپریٹر پی جے ایم انٹرکنیکشن، جو تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ افراد کو بجلی فراہم کرتا ہے، نے ہنگامی بجلی بچاؤ پروگرام نافذ کرتے ہوئے صارفین سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل کی۔

ادارے کے مطابق ایئر کنڈیشنرز کے بے تحاشا استعمال، ٹرانسمیشن لائنوں پر دباؤ اور بعض جنریٹرز کی بندش کے باعث بجلی کے نظام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ادھر نیویارک میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کون ایڈیسن نے بتایا کہ جمعہ کی سہ پہر تک تقریباً 17 ہزار صارفین بجلی سے محروم تھے، جبکہ شہریوں سے بجلی کی بچت کی اپیل بھی کی گئی۔

شدید گرمی نے روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کیا۔

مین ہیٹن میں سڑکوں کا درجہ حرارت اس قدر بڑھ گیا کہ جوتوں کے تلووں میں استعمال ہونے والا گوند نرم پڑ گیا اور کئی افراد کے جوتے سڑک سے چپکنے لگے۔

اس کے باوجود ہزاروں افراد میڈیسن اسکوائر گارڈن کے باہر جمع رہے، جہاں عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ اور امریکی فٹبال اسٹار ٹراوس کیلس کی متوقع شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے معروف شخصیات کی آمد کا انتظار کیا جا رہا تھا۔

تقریب کے انتظامات میں مصروف عملہ شدید گرمی سے بچنے کے لیے پانی کی بوتلیں اور تولیے استعمال کرتا رہا۔

نیشنل ویدر سروس کے مطابق جمعہ کے روز امریکہ کی نصف سے زیادہ آبادی، یعنی 18 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد، شدید گرمی کے انتباہ کے تحت تھے، جبکہ کئی شہروں میں ریکارڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا یا اس کے قریب پہنچ گیا۔

محکمہ موسمیات اور حکام نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، لہٰذا عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، سایہ دار مقامات پر رہیں اور ہیٹ اسٹروک یا گرمی سے متعلق بیماریوں کی علامات پر فوری توجہ دیں۔

شدید موسم کے باعث امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں میں بھی یومِ آزادی کی متعدد تقریبات متاثر ہوئیں۔

فلاڈیلفیا میں سلام ٹو انڈیپینڈنس پریڈ منسوخ کر دی گئی، جہاں درجہ حرارت 103 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ گیا، جو 1901 کے ریکارڈ کے برابر ہے۔

اسی طرح ہیڈن ٹاؤن شپ، نیو جرسی میں سالانہ پریڈ، جبکہ واٹر ٹاؤن، نیویارک میں یومِ آزادی کا کنسرٹ اور آتش بازی کا پروگرام منسوخ کر دیا گیا۔

بوسٹن میں بھی حکام نے دریا کنارے ہونے والی سالانہ آتش بازی کی تقریب میں عوام کے داخلے کا وقت چار گھنٹے مؤخر کر دیا تاکہ لوگ دن کی شدید گرمی سے محفوظ رہ سکیں۔

حکام کے مطابق گرمی کی یہ غیر معمولی لہر آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث مزید حفاظتی اقدامات جاری رکھے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں