ٹیلی کام ترمیمی بل پر حکومت کی وضاحت نجی املاک کے تحفظ کی یقین دہانی

اسلام آباد (ایم این این): وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے مجوزہ ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1996 کا موجودہ قانون جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً 5G اور نئی نسل کی ڈیجیٹل سروسز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہو چکا ہے۔

اتوار کو وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ترمیمی بل 2026 کا مقصد 1996 کے قانون کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے، کیونکہ یہ قانون اس وقت بنایا گیا تھا جب ملک میں صرف 2G ٹیکنالوجی دستیاب تھی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان میں ڈیٹا کے استعمال میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ملکی ٹیلی کام اسپیکٹرم 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر تقریباً 750 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جو ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی کے ذریعے ممکن ہوا۔ ساتھ ہی نئی نسل کے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب بھی جاری ہے۔

وزیر آئی ٹی نے کہا کہ مجوزہ قانون کا مقصد ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا، تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی میں توسیع کرنا اور غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنا ہے، جبکہ شہریوں کے بنیادی حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جدید ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات کی فراہمی کے لیے فائبر آپٹک نیٹ ورک، ٹیلی کام ٹاورز اور زیرزمین و بالائی انفراسٹرکچر کی بڑے پیمانے پر تعمیر ضروری ہے۔

شزہ فاطمہ کے مطابق موجودہ حکومت کے 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے وقت صرف 30 لاکھ گھروں تک فائبر انٹرنیٹ دستیاب تھا، جو مختلف اصلاحات کے نتیجے میں بڑھ کر 50 لاکھ سے زائد ہو چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ تین برسوں میں ایک کروڑ گھروں تک وائرڈ براڈ بینڈ انٹرنیٹ پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ موجودہ ریگولیٹری نظام سرمایہ کاری کے لیے موزوں نہیں تھا، اسی لیے مجوزہ ترمیمات رائٹ آف وے (ROW) سمیت دیرینہ مسائل حل کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پیش کی گئی ہیں۔

وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومتوں نے اصلاحات کے نفاذ میں بھرپور تعاون کیا ہے اور حکومت ہر پاکستانی گھر تک معیاری انٹرنیٹ کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے۔

نجی املاک پر قبضے کی خبروں کی تردید

شزہ فاطمہ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی نجی زمین پر زبردستی ٹیلی کام انفراسٹرکچر نصب کیا جا سکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ عوامی خدشات سامنے آنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کی، جس نے بل کا تفصیلی جائزہ لیا۔

الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ

وزیر آئی ٹی نے اپنے اور آئی ٹی سیکریٹری کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کے الزامات پر کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے باقاعدہ تحقیقات کرانے کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی بدعنوانی ثابت ہوئی تو وہ پوری ذمہ داری قبول کریں گی، تاہم اگر الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے تو وہ اور آئی ٹی سیکریٹری قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد آئینی اور قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

وزیر قانون کی وضاحت

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مجوزہ بل کو کسی مخصوص فرد یا ادارے کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کرنے کا تاثر درست نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی کو اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملا اور قومی اسمبلی نے چھ ترامیم کے ساتھ بل منظور کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ قانون کا بنیادی مقصد ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان انفراسٹرکچر کی تنصیب سے متعلق مسائل حل کرنا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی نجی زمین پر فائبر آپٹک کیبل بچھانے سے قبل مالک کی رضامندی لازمی ہوگی، اور کسی شہری کو اس کی مرضی کے خلاف اپنی ملکیت پر ٹیلی کام انفراسٹرکچر نصب کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون ایک جانب پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی کو فروغ دے گا جبکہ دوسری جانب شہریوں کے نجی املاک کے آئینی حقوق کا مکمل تحفظ بھی یقینی بنائے گا۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں