اسلام آباد: ایم این این
پاکستان نے بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) کے آئی سی ٹی ڈیولپمنٹ انڈیکس (IDI) 2026 میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے اپنا مجموعی اسکور 56.4 سے بڑھا کر 67.7 کر لیا ہے، جو تقریباً 20 فیصد بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔
وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام کے مطابق پاکستان نے کنیکٹیویٹی کے شعبے میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی ہے، جہاں 22.8 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ Meaningful Connectivity کا اسکور بڑھ کر 79 تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی Derived Position میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور ملک کی درجہ بندی میں 27 درجے بہتری ریکارڈ کی گئی، جسے ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ نے اس کامیابی کو حکومتی پالیسیوں کا مثبت نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی سے نوجوانوں، طلبہ، فری لانسرز، اسٹارٹ اپس اور کاروباری طبقے کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے ملکی معیشت کی ڈیجیٹل تبدیلی کو مزید تقویت ملے گی۔
شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ حکومت ملک بھر میں بہتر، قابلِ اعتماد اور کم لاگت ڈیجیٹل سروسز کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ شہریوں کو جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئی ٹی یو انڈیکس میں پاکستان کی بہتر درجہ بندی عالمی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے، جو ملک میں سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔



