تحریر: عائشہ ناز
“موسمیاتی انصاف” (Climate Justice) گزشتہ چند برسوں میں عالمی سفارت کاری کی ایک طاقتور اصطلاح بن چکی ہے، اور اگر کسی ملک نے اس مؤقف کو دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، مگر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے اسے دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں لاکھڑا کیا ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب اس کی سب سے بڑی مثال ہیں، جنہوں نے نہ صرف تین کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا بلکہ عالمی بینک کے مطابق ملک کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان بھی پہنچایا۔
اس تباہی کے بعد عالمی برادری کی ہمدردی پاکستان کے ساتھ ضرور نظر آئی، لیکن ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا پاکستان عالمی موسمیاتی فنڈز، خصوصاً گرین کلائمیٹ فنڈ (GCF)، سے اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق فائدہ اٹھا رہا ہے؟
جواب مکمل طور پر اثبات میں نہیں دیا جا سکتا۔
گرین کلائمیٹ فنڈ دنیا کا سب سے بڑا موسمیاتی مالیاتی پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ پاکستان کا موجودہ GCF پورٹ فولیو تقریباً 249 ملین امریکی ڈالر پر مشتمل ہے، اور اب تک سات بڑے منصوبے منظور کیے جا چکے ہیں۔
ان منصوبوں میں ری چارج پاکستان سب سے نمایاں ہے، جس کے لیے تقریباً 77.8 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف بند باندھنے یا سیلاب روکنے تک محدود نہیں بلکہ دریاؤں، جنگلات، ویٹ لینڈز اور قدرتی آبی گزرگاہوں کی بحالی کے ذریعے مستقبل کے سیلابی خطرات کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی طرح شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کے خطرات کم کرنے کے لیے 37.5 ملین ڈالر، دریائے سندھ کے طاس میں موسمیاتی مزاحم زراعت اور پانی کے مؤثر استعمال کے لیے 47 ملین ڈالر، کراچی گرین بی آر ٹی میں 11.8 ملین ڈالر، پاکستان ڈسٹری بیوٹڈ سولر پروگرام کے لیے تقریباً 18.6 ملین ڈالر، کمیونٹی ریزیلینس پارٹنرشپ کے لیے 9.8 ملین ڈالر اور اکیومن کلائمیٹ ایکشن پاکستان فنڈ کے لیے 47 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
یہ منصوبے یقیناً پاکستان کے لیے اہم ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم ایک ایسے ملک کے لیے کافی ہے جسے صرف ایک موسمیاتی آفت میں 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا؟
اس سوال کا جواب یقیناً نفی میں ہے، مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ تمام ذمہ داری عالمی برادری پر ڈال دی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس عالمی موسمیاتی فنڈز حاصل کرنے کی گنجائش اس سے کہیں زیادہ ہے، لیکن اس کے لیے صرف متاثرہ ملک ہونا کافی نہیں ہوتا۔ عالمی فنڈز مضبوط منصوبے، واضح اہداف، شفاف مالیاتی نظام اور مؤثر عمل درآمد بھی مانگتے ہیں۔
پاکستان نے اس حوالے سے کئی اہم پالیسیاں ضرور بنائی ہیں۔ کلائمیٹ چینج ایکٹ 2017، نیشنل کلائمیٹ چینج پالیسی 2021، نیشنل ایڈاپٹیشن پلان اور پیرس معاہدے کے تحت نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز (NDCs) اس بات کا ثبوت ہیں کہ پالیسی سازی کے میدان میں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان دستاویزات میں قابل تجدید توانائی، پانی کے بہتر انتظام، جنگلات کے تحفظ، کم کاربن معیشت اور عالمی کلائمیٹ فنانس کے بہتر استعمال جیسے اہداف واضح طور پر درج ہیں۔
لیکن پاکستان کا مسئلہ پالیسیوں کی کمی نہیں، پالیسیوں پر عمل درآمد کی کمزوری ہے۔
آج بھی موسمیاتی منصوبے مختلف وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور سرکاری اداروں کے درمیان اختیارات کی کشمکش کا شکار رہتے ہیں۔ کئی منصوبے منظوری حاصل کرنے میں برسوں لگا دیتے ہیں، جبکہ موسمیاتی بحران کسی فائل کے آگے بڑھنے کا انتظار نہیں کرتا۔
اسی طرح عالمی ادارے صرف یہ نہیں دیکھتے کہ کسی ملک کو کتنی ضرورت ہے، بلکہ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہاں شفافیت کتنی ہے، نگرانی کا نظام کتنا مؤثر ہے اور فنڈز کے استعمال سے حقیقی نتائج حاصل ہو رہے ہیں یا نہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اب بھی ایسا کوئی جامع عوامی نظام موجود نہیں جہاں شہری یہ جان سکیں کہ کون سا کلائمیٹ منصوبہ کس مرحلے میں ہے، کتنی رقم خرچ ہوئی اور اس کے نتائج کیا نکلے۔
ایک اور بڑی خامی نجی شعبے کی محدود شمولیت ہے۔ دنیا بھر میں موسمیاتی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ نجی سرمایہ کاروں سے آ رہا ہے، لیکن پاکستان اب بھی سرکاری فنڈنگ اور ڈونر ایجنسیوں پر انحصار کر رہا ہے۔ گرین بانڈز، کاربن مارکیٹ، کلائمیٹ انشورنس اور گرین فنانس جیسے شعبے ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔
مزید افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی منصوبہ بندی میں مقامی حکومتوں کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے، حالانکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے پہلے دیہات، شہروں اور مقامی آبادی پر پڑتے ہیں۔ جب تک ضلعی اور تحصیل سطح پر اداروں کو اختیار، وسائل اور تربیت نہیں دی جائے گی، موسمیاتی منصوبے کاغذوں سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔
پاکستان کے پاس اس وقت ایک سنہری موقع موجود ہے۔ عالمی سطح پر Loss and Damage Fund قائم ہو چکا ہے، گرین کلائمیٹ فنڈ کے وسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور دنیا موسمیاتی انصاف پر پہلے سے زیادہ سنجیدہ دکھائی دیتی ہے۔ اگر پاکستان اپنی ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنائے، عالمی معیار کے منصوبے تیار کرے، نجی شعبے کو شریک کرے اور شفاف نظام قائم کرے تو وہ موجودہ فنڈنگ سے کئی گنا زیادہ وسائل حاصل کر سکتا ہے۔
اس مقصد کے لیے حکومت کو فوری طور پر ایک قومی کلائمیٹ فنانس اتھارٹی قائم کرنی چاہیے جو تمام بین الاقوامی موسمیاتی فنڈز کے حصول، نگرانی اور مؤثر استعمال کی ذمہ دار ہو۔ ہر صوبے میں کلائمیٹ فنانس یونٹس قائم کیے جائیں، تمام منصوبوں کی پیش رفت کے لیے عوامی آن لائن ڈیش بورڈ بنایا جائے، گرین بانڈز اور کاربن مارکیٹ کو فعال کیا جائے، اور جامعات، تحقیقی اداروں اور نجی شعبے کو موسمیاتی منصوبہ سازی کا حصہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے ماہرین کی مستقل ٹیم تشکیل دینا بھی ضروری ہے جو GCF، Adaptation Fund اور Loss and Damage Fund کے لیے عالمی معیار کی تجاویز تیار کر سکے۔
پاکستان بارہا یہ کہتا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہے، اور یہ بات درست بھی ہے۔ لیکن اب دنیا صرف متاثرہ ملک کی کہانی نہیں سننا چاہتی، بلکہ وہ ایسے ممالک کو دیکھنا چاہتی ہے جو ملنے والی مالی معاونت کو مؤثر حکمت عملی، شفاف نظام اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کر سکیں۔
اگر پاکستان نے اپنی موسمیاتی حکمرانی کو مضبوط بنا لیا تو گرین کلائمیٹ فنڈ صرف مالی معاونت کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ یہ پاکستان کی معیشت، زراعت، آبی وسائل اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ لیکن اگر پالیسی اور عمل درآمد کے درمیان موجود خلیج برقرار رہی تو موسمیاتی بحران بھی بڑھتا رہے گا اور عالمی فنڈز بھی ملک کی حقیقی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہوں گے۔



