گلگت (ایم این این): گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کی حسین وادی ہُشے میں واقع 7,282 میٹر بلند کے-6 چوٹی سر کرنے کی کوشش کے دوران برفانی تودہ گرنے سے ایک فرانسیسی کوہ پیما جاں بحق ہوگیا، جبکہ اس کے دو ساتھی محفوظ رہے۔
جاں بحق ہونے والے کوہ پیما کی شناخت 41 سالہ گیوم پیئرل کے نام سے ہوئی ہے، جو ایک بین الاقوامی کوہ پیمائی ٹیم کا حصہ تھے۔ ٹیم میں فرانس کے بورس جولے اور سوئٹزرلینڈ کی کرسٹینا ماریا بھی شامل تھیں۔
سیاحتی کمپنی کے منتظم اسحاق علی کے مطابق تین رکنی ٹیم نے 6 جون کو کے-6 چوٹی سر کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔ یہ چوٹی گلگت بلتستان کی مشکل اور تکنیکی اعتبار سے انتہائی چیلنجنگ چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیم تقریباً 5,000 میٹر کی بلندی پر پہنچ چکی تھی جب اچانک برفانی تودہ گر پڑا۔ حادثے کے نتیجے میں گیوم پیئرل موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کے دونوں ساتھی محفوظ رہے۔
اسحاق علی کے مطابق زندہ بچ جانے والے کوہ پیماؤں نے سیٹلائٹ رابطے کے ذریعے فرانس میں اپنے اہل خانہ کو حادثے کی اطلاع دی، جس کے بعد اہل خانہ نے پاکستان میں متعلقہ حکام اور ٹور آپریٹر سے رابطہ کیا۔
حادثے کے فوراً بعد مقامی انتظامیہ، پولیس اور رضاکاروں پر مشتمل ایک ریکوری ٹیم متاثرہ مقام کی جانب روانہ کردی گئی تاکہ جاں بحق کوہ پیما کی میت کو تلاش کرکے واپس لایا جا سکے۔
حکام کے مطابق دشوار گزار پہاڑی راستوں اور موسم کی سختی کے باعث ریسکیو اور ریکوری آپریشن کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں آٹھ ہزار میٹر سے بلند پانچ عظیم چوٹیاں واقع ہیں۔ ان میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے-2 (8,611 میٹر)، نانگا پربت (8,126 میٹر)، گاشر برم-1 (8,080 میٹر)، براڈ پیک (8,051 میٹر) اور گاشر برم-2 (8,035 میٹر) شامل ہیں۔
گلگت بلتستان کے پہاڑی سلسلے ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں کوہ پیماؤں، ٹریکرز اور مہم جو سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خطہ عالمی سطح پر ایڈونچر ٹورازم کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
محکمہ سیاحت گلگت بلتستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ساجد حسین کے مطابق کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کا سیزن عموماً جون سے شروع ہو کر اگست کے وسط تک جاری رہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث خدشات پیدا ہوئے تھے کہ سیاحت متاثر ہو سکتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور اس سال ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
محکمہ سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کوہ پیمائی اور ٹریکنگ پرمٹس کے لیے غیر ملکی سیاحوں کی درخواستیں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ موصول ہوئی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے موسم گرما میں تقریباً 2,200 غیر ملکی ایڈونچر سیاح، 24 ہزار غیر ملکی سیاح بغیر پرمٹ کے اور تقریباً 10 لاکھ ملکی سیاح گلگت بلتستان آئے تھے۔
گزشتہ سال موسمیاتی آفات اور پاکستان-بھارت سرحدی کشیدگی کے باعث سیاحوں کی آمد میں کمی دیکھنے میں آئی تھی، تاہم اس کے باوجود تقریباً 2,000 غیر ملکی کوہ پیماؤں اور ٹریکرز کو پرمٹ جاری کیے گئے تھے۔
کے-6 پر پیش آنے والا یہ افسوسناک حادثہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ بلند ترین پہاڑوں کو سر کرنے کی مہمات انتہائی خطرناک ہوتی ہیں، جہاں سخت موسمی حالات اور قدرتی خطرات ہر وقت کوہ پیماؤں کے لیے چیلنج بنے رہتے ہیں۔



