ہنہ اوڑک میں مسلح حملہ، 4 مقامی افراد شہید، 7 زخمی، سکیورٹی آپریشن جاری

کوئٹہ (ایم این این): کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں مسلح افراد کے حملے اور جھڑپ کے نتیجے میں چار مقامی افراد شہید جبکہ سات افراد زخمی ہوگئے۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے مطابق ایک زخمی کی حالت تشویشناک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ فرنٹیئر کور (ایف سی)، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مسلح حملہ آوروں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ مقامی شہری سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کوئٹہ کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

وزیر داخلہ بلوچستان موقع پر پہنچ گئے

دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ہنہ اوڑک اور ایئرپورٹ روڈ کا دورہ کیا۔

انہوں نے قبائلی عمائدین اور احتجاج میں شریک افراد سے ملاقات اور مذاکرات کیے اور مقامی قبائل کے افراد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ حکومت مظلوم کے ساتھ اور ظالم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور متاثرہ قبائل کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت علاقے میں امن و امان کی بحالی اور حملہ آوروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

حکام کے مطابق کوئٹہ ایئرپورٹ روڈ، بی اے مال کے قریب، تاحال ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں