تحریر / جلیلہ حیدر
میں ہزارہ، ترک النسل پس منظر سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرے اجداد کے نسلی ورثے میں منگول اور ترک دونوں عناصر شامل تھے۔ تاریخی طور پر، وسطی ایشیا میں ترک ان اقوام میں شامل تھے جنہوں نے آٹھویں صدی میں اسلام قبول کیا اور شافعی مسلک اپنایا۔ مسلکی اعتبار سے میرے اجداد ابتدا میں آرتھوڈاکس سنی مسلمان تھے۔ سترہویں صدی کے اواخر میں خاص صفوی دور میں کچھ گروہ شیعہ مسلمان ہوئے، جن میں اثنا عشری اور اسماعیلی شیعہ شامل تھے۔ تاہم آج بھی ہزارہ قوم کا ایک بڑا حصہ، تقریباً پینتیس فیصد، سنی مسلمان ہے۔
میرا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ جب ہمارے اجداد کے کچھ گروہوں نے اپنا مسلک تبدیل کیا، جو اس وقت مالکیوں اور شافعیوں کے درمیان شدید مذہبی اختلافات کے پس منظر میں ہوا، تو شاید انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ نئے مسلک میں داخل ہونے کے ساتھ اپنے الگ چیلنجز بھی ہوں گے۔ برصغیر پاک و ہند میں جس نوعیت کا مسلکی تناؤ دیکھا جاتا ہے، وہ ہماری کمیونٹی میں نائن الیون سے پہلے بھی تقریباً ناپید تھا۔ ہمارے ہاں کسی صحابی کو گالی دینا، ان کی توہین کرنا یا دشنام طرازی کرنا سخت ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ اس معاملے پر آج بھی ہزارہ قوم، بشمول مذہبی علما، کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔
ہماری قوم میں شیعہ ہزارہ اور سنی ہزارہ کی شناخت سے زیادہ تبار، رشتہ داری اور بھائی چارے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر ایک شیعہ ہزارہ اور ایک سنی ہزارہ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے ہوں تو کوئی ان کی الگ شناخت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ تعلق فرقے سے زیادہ بھائی بندی کا ہے۔
میں ورجینیا میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے شیعہ ہزارہ بچوں میں سے کچھ نماز شیعہ مسجد میں پڑھتے ہیں، قرأت سنی مسجد میں سیکھتے ہیں، اور ان کی فیملیز کو اس سے کسی قسم کا مسئلہ نہیں۔ یہی وہ سماجی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال ہے۔
میرے مرحوم والد نے اپنی زندگی میں ایک مذہبی شعر لکھا تھا، جو کچھ یوں تھا:
اگر شفقتِ رسولِ خدا نمیبود،
صداقتِ ابوبکر رضیالله تعالی نمیبود،
شجاعتِ علی شیرِ خدا نمیبود،
سخاوتِ عثمان رضیالله تعالی نمیبود،
دولتِ خدیجتہ الکبری نمیبود،
سیاستِ عمر رضیالله تعالی نمیبود،
اسلام هیچ در این دنیا نمیبود۔
یعنی اگر رسولِ خدا ﷺ کی شفقت نہ ہوتی، حضرت ابوبکرؓ کی صداقت نہ ہوتی، حضرت علیؓ کی شجاعت نہ ہوتی، حضرت عثمانؓ کی سخاوت نہ ہوتی، حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کی دولت نہ ہوتی، اور حضرت عمرؓ کی سیاسی بصیرت نہ ہوتی، تو آج اسلام اس دنیا میں موجود نہ ہوتا۔



