اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہینِ عدالت کی درخواستیں خارج کر دیں، 190 ملین پاؤنڈ کیس میں دلائل کے لیے دفاع کو دو ہفتے کی مہلت

اسلام آباد (ایم این این): اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے 190 ملین پاؤنڈ (القادر ٹرسٹ) کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر دلائل شروع کرنے کے لیے دفاع کو آخری مرتبہ دو ہفتوں کی مہلت دے دی۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ اپیلوں کی پیروی کے لیے درکار وکالت ناموں پر دستخط ہو چکے ہیں، لہٰذا توہینِ عدالت کی درخواستیں غیر مؤثر ہو گئی ہیں اور انہیں خارج کیا جاتا ہے۔

دفاع کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، لطیف کھوسہ اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابقہ حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل زیر سماعت ہے، اس لیے مزید مہلت دی جائے۔

عدالت نے ابتدا میں دفاع کو فوری طور پر دلائل شروع کرنے کی ہدایت کی اور خبردار کیا کہ اگر وکلا دلائل پیش نہ کریں تو نیب پراسیکیوٹر کو دلائل دینے کی اجازت دی جائے گی۔

بعد ازاں دفاع کی یقین دہانی پر کہ آئندہ سماعت پر باقاعدہ دلائل کا آغاز کر دیا جائے گا، عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

یہ مقدمہ 190 ملین پاؤنڈ القادر ٹرسٹ ریفرنس سے متعلق ہے، جس میں احتساب عدالت نے جنوری 2025 میں عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔ نیب کے مطابق ملزمان نے برطانیہ سے واپس آنے والے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کے معاملے میں بحریہ ٹاؤن سے مالی اور اراضی کے فوائد حاصل کیے۔

دریں اثنا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک اور بینچ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ تنہائی میں قید (سولیٹری کنفائنمنٹ) کے خلاف دائر درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ نمبر لگانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے قرار دیا کہ درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے کا فیصلہ بعد میں عدالتی کارروائی کے دوران کیا جائے گا۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کئی ماہ سے غیر قانونی طور پر تنہائی میں رکھا گیا ہے، انہیں اخبارات، ٹیلی ویژن اور اہلِ خانہ سے باقاعدہ ملاقاتوں کی سہولت بھی میسر نہیں، جو غیر انسانی سلوک کے مترادف ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے اس مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پہلے بھی عدالت میں اٹھایا جا چکا ہے اور اگر کوئی قانونی چارہ جوئی بنتی ہے تو اس کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے رجسٹرار آفس کے تمام اعتراضات ختم کرتے ہوئے دونوں درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا اور مزید کارروائی کے لیے سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں