راولپنڈی (ایم این این): کہوٹہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے والے 14 زیرِ سماعت قیدی پیر کے روز مبینہ طور پر سکیورٹی اہلکاروں کو قابو کرکے قیدیوں کی وین سے فرار ہوگئے، جس کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
راولپنڈی پولیس کے ترجمان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) خالد ہمدانی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سینئر افسران کو جائے وقوعہ پر پہنچنے، واقعے کی رپورٹ طلب کرنے اور فرار ہونے والے قیدیوں کی گرفتاری کے لیے فوری کارروائی کی ہدایت کی۔
پولیس کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران چار فرار قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ باقی ماندہ ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے تمام افراد مختلف مقدمات میں زیرِ سماعت ملزمان ہیں۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ اسلام آباد کے تھانہ سہالہ کی حدود میں پیش آیا، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس باہمی تعاون سے فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے مشترکہ کارروائیاں کر رہی ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق قیدیوں کی وین کے اندر پہلے قیدیوں کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے دوران انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو قابو کر کے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی۔
پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام فرار قیدیوں کو جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے سینئر افسران کی نگرانی میں محکمانہ انکوائری بھی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ غفلت یا کوتاہی کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ رواں ماہ راولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال سے بھی ایک زیرِ سماعت قیدی فرار ہوگیا تھا، جس کے بعد دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
گزشتہ سال کراچی کی ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے 200 سے زائد قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعے کے بعد سندھ حکومت نے محکمہ جیل خانہ جات کے متعدد اعلیٰ افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔



