تہران (ایم این این): ایران نے آئندہ چند روز میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر براہِ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی ملاقاتیں صرف منجمد ایرانی اثاثوں اور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد سے متعلق ہوں گی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران نے آنے والے دنوں میں امریکی حکام سے کسی بھی سطح پر ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ ان کے مطابق دوحہ میں ہونے والی بات چیت صرف قطری حکام کے ساتھ ہوگی، جس میں مفاہمتی یادداشت کی شقوں، خصوصاً ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
بقائی نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی اطلاعات بے بنیاد ہیں اور ایران نے ایسی کسی ملاقات کا اہتمام نہیں کیا۔
دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے بھی تصدیق کی کہ امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر قطر پہنچیں گے، تاہم وہ صرف ثالثوں سے ملاقات کریں گے اور ایرانی وفد کے ساتھ کسی براہِ راست یا اعلیٰ سطحی ملاقات کا شیڈول موجود نہیں۔
یہ بیان وائٹ ہاؤس کے اس دعوے سے مختلف ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دوحہ میں اس ہفتے اعلیٰ سطح کے ایران امریکہ مذاکرات متوقع ہیں۔
لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کو جنگ کے خاتمے سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا ہوگا اور اسرائیل کو بھی مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا پابند بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ کی سنجیدگی کا اندازہ صرف عملی اقدامات اور معاہدے کے متن کی بنیاد پر کرے گا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بقائی نے کہا کہ بارودی سرنگوں کی صفائی ایران کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کسی بیرونی طاقت کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔
قطر نے بتایا کہ گزشتہ دنوں آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے خصوصی ہاٹ لائن استعمال کی گئی، جبکہ قطر اور عمان بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
قطری ترجمان نے مزید بتایا کہ ایران کے تقریباً 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز ابھی تک تہران منتقل نہیں کیے گئے۔ یہ رقوم 2023 کے معاہدے کے تحت صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے مختص ہیں۔
ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں غیر علاقائی طاقتوں کی موجودگی ناقابل قبول ہے اور بیرونی فوجی اڈے خطے میں استحکام کے بجائے عدم اعتماد اور بدامنی پیدا کرتے ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان نے قم میں علماء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات، عوامی حقوق اور بنیادی اصولوں پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دشمنوں کی مسلط کردہ شرائط ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تمام مذاکرات سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی رہنمائی، ملکی قوانین اور ریاستی پالیسی کے مطابق کیے گئے، جبکہ بعض سیاسی حلقوں نے مذاکراتی ٹیم کو بدنام کرکے قومی کامیابیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
ادھر ایرانی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے کہا کہ سرحدوں پر بری فوج، پاسدارانِ انقلاب اور دیگر سکیورٹی ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں، جس کے باعث کسی بھی دشمن کو زمینی کارروائی کی جرات نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکی فوجی اڈے سلامتی کی ضمانت نہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں، جبکہ ایران کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ اور مسلح افواج ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔



