پاکستان کا بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد بحال کرنے کا مطالبہ، دریائے چناب کے بہاؤ میں غیر معمولی تبدیلیوں پر شدید تشویش

اسلام آباد (ایم این این): پاکستان نے بھارت سے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے تحت تعاون فوری بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں مسلسل غیر معمولی اتار چڑھاؤ پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ معاہدے کی یکطرفہ معطلی علاقائی امن، آبی سلامتی اور زرعی نظام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے قانونی و آئینی فریم ورک پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید محمد مہر علی شاہ نے بتایا کہ اپریل 2025 سے اب تک انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصب کو چار مرتبہ خطوط ارسال کیے ہیں، تاہم بھارت کی جانب سے کسی ایک خط کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بھی دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں تبدیلیوں کے بارے میں ایک اور خط بھیجا گیا، کیونکہ یہ معاملہ محض تکنیکی نوعیت کا نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑا ہوا اسٹریٹجک مسئلہ ہے۔

مہر علی شاہ نے کہا کہ پانی کے بہاؤ سے متعلق بروقت معلومات کا تبادلہ سندھ طاس معاہدے کا بنیادی ستون ہے۔ اگر یہ معلومات فراہم نہ کی جائیں تو زیریں علاقے میں موجود پاکستان یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ پانی میں تبدیلی قدرتی عوامل کے باعث ہے یا بالائی علاقے میں انسانی مداخلت کی وجہ سے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاہدے کی معطلی کے باوجود اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے مسلسل ڈیٹا فراہم کیا، اجلاس بلانے، معائنوں، معلومات کے تبادلے اور آرٹیکل 9 کے تحت مشاورت کی درخواستیں بھیجیں، لیکن بھارت نے کسی بھی رابطے کا جواب نہیں دیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ رابطوں اور معلومات کی عدم فراہمی غلط فہمیوں اور غیر ضروری کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔

کمشنر نے واضح کیا کہ پاکستان قانونی ہائیڈرو پاور منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا، تاہم وہ ایسے منصوبوں پر اعتراض کرتا ہے جن کے ذریعے بھارت بالائی علاقوں میں پانی کے ذخائر پر غیر قانونی کنٹرول حاصل کرے، پانی کے بہاؤ میں من مانی کرے یا شفافیت سے گریز کرے۔

انہوں نے بھارت کے مجوزہ چناب۔بیاس لنک منصوبے پر بھی شدید تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے تقریباً 19 لاکھ ایکڑ فٹ پانی چناب سے منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جو سندھ طاس معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔

مہر علی شاہ نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کے 2025 اور مئی 2026 کے فیصلوں نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت کی عدم شرکت سے کارروائی نہیں رکتی، معاہدے کی یکطرفہ معطلی عدالت کے اختیار کو ختم نہیں کرتی، فیصلے حتمی اور لازمی ہیں اور بھارت معاہدے کے مطابق مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کی طرف بہنے دینے کا پابند ہے۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو پاکستان کی قومی سلامتی، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام، 80 فیصد زرعی زمین اور ملکی معیشت کا بڑا حصہ انہی دریاؤں سے وابستہ ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے اور سندھ طاس معاہدہ علاقائی امن، بین الاقوامی قانون اور باہمی اعتماد کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل نہیں کر سکتا کیونکہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے طے پایا تھا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے یا بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی ہر کوشش نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی قانونی نظام کے لیے بھی نقصان دہ ہوگی۔

انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور بڑھتی ہوئی آبی قلت کے تناظر میں جنوبی ایشیا کو پانی کو تنازعے کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنانا ہوگا۔

وزیر اطلاعات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سفارتی، قانونی اور بین الاقوامی سطح پر سندھ طاس معاہدے اور پاکستانی عوام کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا، جبکہ ملکی قیادت پاکستان کے پانی کے حق کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں