اسلام آباد (ایم این این): اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے انسانی اعضا اور انسانی پلاسنٹا کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت کے مقدمے میں گرفتار پانچ ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کر دی ہے۔
ملزمان کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی ادارے نے مزید تحقیقات کے لیے نو روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمان کا جسمانی ریمانڈ دو روز کے لیے بڑھاتے ہوئے حکم دیا کہ ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
سماعت کے دوران دو پاکستانی ملزمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلوں کا اس مبینہ نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں اور ایف آئی اے نے انہیں غلط طور پر مقدمے میں نامزد کیا ہے۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق گرفتار پانچ ملزمان میں تین غیر ملکی، جن میں چینی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ دو پاکستانی شہری شامل ہیں۔
ملزمان کو چند روز قبل اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7 میں ایف آئی اے اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (HOTA) کی مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
چھاپے کے دوران حکام نے تازہ، خشک اور پراسیس شدہ انسانی پلاسنٹا کی بڑی مقدار برآمد کرکے قبضے میں لے لی، جسے تفتیش کا اہم ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے مختلف اسپتالوں سے انسانی پلاسنٹا حاصل کرتے تھے۔
تحقیقات کے مطابق پراسیس شدہ پلاسنٹا کو مبینہ طور پر بھیڑ کے اعضا ظاہر کرکے بیرونِ ملک برآمد کیا جاتا تھا تاکہ اس کی اصل شناخت چھپائی جا سکے۔
ایف آئی اے اس مبینہ نیٹ ورک کے تمام پہلوؤں، پلاسنٹا کے حصول، پراسیسنگ اور بیرونِ ملک ترسیل کے طریقہ کار کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
عدالت نے تفتیش مکمل ہونے پر ملزمان کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے مزید قانونی کارروائی آئندہ سماعت تک مؤخر کر دی۔



