اسلام آباد (ایم این این): پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے آئندہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مشترکہ طور پر لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ آزاد کشمیر میں عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔
اس فیصلے کا اعلان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اسلام آباد میں ہونے والے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان یہ انتخابی اتحاد سیاسی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس کا مقصد آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل کو جمہوری اور آئینی طریقے سے حل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے جائز مطالبات کا حل پارلیمنٹ اور انتخابی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، نہ کہ سڑکوں پر احتجاج یا بدامنی کے ذریعے۔
بلاول نے مولانا فضل الرحمان کے سیاسی تجربے اور مشکل حالات میں ان کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ان کی رہنمائی سے سیکھنے کا موقع ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جے یو آئی (ف) اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی ملک کے لیے مثبت کردار ادا کرنے پر آمادہ ہے تو حکومت بھی قومی معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے زور دیا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات مکمل طور پر پرامن، شفاف اور غیر متنازع ہونے چاہییں تاکہ کشمیری عوام اپنی رائے آزادانہ طور پر استعمال کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل لانگ مارچ، ہڑتالوں اور احتجاج کے بجائے جمہوری اداروں اور پارلیمنٹ کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
بلاول نے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) آزاد کشمیر، سندھ اور بلوچستان میں بھی جہاں ممکن ہو مشترکہ حکومتیں قائم کریں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے درخواست کی کہ وہ اپنی جماعت سے مشاورت کریں تاکہ جہاں ممکن ہو دونوں جماعتیں انتخابی اتحاد کو مزید وسعت دے سکیں۔
آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ خطے کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں اور قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریز کریں کیونکہ دیرپا حل صرف پارلیمنٹ اور جمہوری عمل سے ہی ممکن ہے۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے بلاول بھٹو زرداری کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انتخابی اتحاد کا خیرمقدم کیا۔
آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا حل بھی مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بندوق اور لاٹھی کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ قومی معاملات کو بات چیت اور سیاسی مکالمے سے حل کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ روز آزاد کشمیر اسمبلی کی 45 میں سے 35 نشستوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کیا تھا، جبکہ دو نشستیں اپنے اتحادی جے یو آئی (ف) کے لیے مختص کی ہیں اور آٹھ حلقوں پر فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔



