اسلام آباد: مریم کیانی
دنیا بھر کے سمندروں نے رواں سال جون کے مہینے میں تاریخ کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا ہے، جس پر موسمیاتی سائنسدانوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سمندری پانی کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت آنے والے مہینوں میں شدید گرمی کی لہروں اور انتہائی موسمی واقعات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سمندروں کی سطح کے درجہ حرارت نے جون کے مہینے کا نیا ریکارڈ قائم کیا، جو انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے مسلسل اور گہرے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندروں کی غیر معمولی حد تک بڑھتی ہوئی گرمی موسم کے عالمی نظام کو مزید غیر متوازن بنا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں طاقتور طوفان، طویل خشک سالی، غیر معمولی بارشیں اور سمندری ہیٹ ویوز میں اضافہ متوقع ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق سمندر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کرتے ہیں، اسی لیے انہیں عالمی حدت کا اہم ترین پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ سمندری پانی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث مرجان کی چٹانوں کی تباہی، قطبی برف کے تیزی سے پگھلنے، سمندر کی سطح بلند ہونے اور سمندری حیات کے قدرتی نظام میں شدید خلل جیسے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مؤثر اور فوری کمی نہ کی گئی تو مستقبل میں شدید موسمی واقعات مزید بار بار اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما ہوں گے، جس سے دنیا بھر میں انسانی آبادی، معیشت اور ماحولیات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔



