وزیراعظم کی ملوث افراد، اداروں اور اسپتالوں کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت
اسلام آباد: ایم این این
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں ایڈز، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر متعدی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے غیر معیاری سرنجز کی تیاری اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلاف ضابطہ سرنجز کے استعمال میں ملوث افراد، اداروں اور مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہسپتالوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت متعدی امراض کی روک تھام سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم کو خصوصی ٹاسک فورس اور وزارتِ قومی صحت کی جانب سے ایڈز، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متعدی امراض پر مؤثر قابو پانے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو اپنی سفارشات مرتب کرتے وقت تمام صوبوں سے مشاورت کو یقینی بنائے۔
وزیراعظم نے وزارتِ قانون کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر موجودہ قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کا جائزہ لے اور ضروری ترامیم کی تجاویز پیش کرے تاکہ متعدی امراض کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی کی جا سکے۔

شہباز شریف نے کہا کہ سرنجز کے ذریعے پھیلنے والے متعدی امراض کے مستقل سدباب کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) میڈیکل آلات تیار کرنے والی صنعت سے مشاورت کے بعد جامع پالیسی اقدامات تجویز کرے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ علاج سے متعلقہ طبی آلات کی مقامی مینوفیکچرنگ، شعبۂ صحت کے عملے کی عالمی معیار کے مطابق تربیت اور بین الاقوامی شراکت داروں کا تعاون اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ متعدی امراض جیسے سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر جامع حکمت عملی، مؤثر قانون سازی اور مربوط عملدرآمد ناگزیر ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرت، اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان، گلوبل فنڈ کی نمائندہ ازاسکون گاویریا، پبلک ہیلتھ کے ماہرین، وزارتِ قومی صحت، ڈریپ کے نمائندگان اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔



