اسلام آباد ہائی کورٹ نے بغیر ایم ٹیگ یا کم بیلنس پر 50 فیصد اضافی ٹول ٹیکس کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا

اسلام آباد (ایم این این): اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے موٹرویز پر بغیر ایم ٹیگ یا ناکافی بیلنس رکھنے والی گاڑیوں پر عائد کیے گئے 50 فیصد اضافی ٹول ٹیکس کے نوٹیفکیشن کی عملداری اگلے حکم تک معطل کر دی۔

یہ عبوری حکم جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایڈووکیٹ محمد جلال حیدر کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیا، جس میں 30 مئی 2025 کے این ایچ اے نوٹیفکیشن کو قانونی طور پر چیلنج کیا گیا تھا۔

عدالت نے وفاقی حکومت اور این ایچ اے سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر رپورٹ اور پیرا وائز جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔ کیس کی مزید سماعت 3 اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک متنازع نوٹیفکیشن کی عملداری معطل رکھنے کا حکم بھی جاری کیا۔

درخواست کے مطابق این ایچ اے نے 30 مئی کے نوٹیفکیشن کے ذریعے موٹرویز پر بغیر ایم ٹیگ یا ناکافی بیلنس رکھنے والی گاڑیوں سے 50 فیصد اضافی ٹول وصول کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی ایکٹ 1991 کی دفعہ 10(vii) این ایچ اے کو صرف قومی شاہراہوں، اسٹریٹجک سڑکوں اور اس کے زیر انتظام شاہراہوں پر ٹول ٹیکس عائد اور وصول کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ قانون میں کہیں بھی اتھارٹی کو جرمانہ، سرچارج یا اضافی مالی بوجھ عائد کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ این ایچ اے ایک قانونی ادارہ ہے جو صرف وہی اختیارات استعمال کر سکتا ہے جو قانون کے تحت واضح طور پر اسے دیے گئے ہوں۔ نہ تو این ایچ اے ایکٹ اور نہ ہی اس کے تحت بنائے گئے قواعد میں بغیر ایم ٹیگ سفر کرنے یا کم بیلنس رکھنے کو ایسا جرم قرار دیا گیا ہے جس پر مالی جرمانہ عائد کیا جا سکے۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ 50 فیصد اضافی ٹول درحقیقت ایک جرمانہ ہے جس کی قانون میں کوئی بنیاد موجود نہیں، جبکہ انتظامی نوٹیفکیشن کے ذریعے بنیادی قانون سے ہٹ کر نئی مالی ذمہ داریاں عائد نہیں کی جا سکتیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ اضافی رقم کا این ایچ اے کی فراہم کردہ کسی اضافی سروس سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے یہ اقدام این ایچ اے ایکٹ کے دائرہ اختیار سے تجاوز اور غیر قانونی ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ 30 مئی کا نوٹیفکیشن غیر آئینی، غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی این ایچ اے کو اضافی وصول کی گئی رقم واپس کرنے اور ایم ٹیگ بیلنس مینجمنٹ اور اس کے استعمال کا مکمل طریقہ کار عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا جائے۔

ابتدائی دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹیفکیشن کو آئندہ سماعت تک معطل کرتے ہوئے تمام فریقین سے جواب طلب کر لیا۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں