آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں 70 سے زائد ممالک کی شرکت، ایران میں چھ روزہ سوگ کا آغاز

تہران/اسلام آباد (ایم این این): ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک بھر میں چھ روزہ سرکاری سوگ اور تدفینی تقریبات کا آغاز ہو گیا، جبکہ تہران میں منعقدہ مرکزی نمازِ جنازہ میں 70 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کر کے ایران سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ دنیا بھر سے آنے والے وفود کی شرکت ایران کے بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں ایک یادگار لمحہ ثابت ہوگی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عربی زبان میں جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کو اس بات پر فخر ہے کہ 70 سے زائد ممالک، خصوصاً عرب برادر ممالک کے نمائندے، شہید رہبرِ انقلاب کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تہران پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی تقریب دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ عباس عراقچی نے سعودی عرب، قطر، عمان اور عراق کے وفود کی تصاویر بھی جاری کیں۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے شہید اہل خانہ کے تابوت شیشے کے خصوصی احاطے میں رکھے جانے کی مناظر نشر کیے، جہاں ہزاروں سوگواروں نے اپنے قائد کو آخری سلام پیش کیا۔

ہزاروں افراد سیاہ لباس پہن کر صبح سویرے ہی تہران کی مختلف میٹرو اسٹیشنوں پر جمع ہوگئے تھے تاکہ گرینڈ مصلیٰ میں منعقد ہونے والی مرکزی تدفینی تقریب میں شرکت کر سکیں۔

نمازِ جنازہ کے مقام پر موجود ہزاروں افراد نے سرخ پرچم اٹھا رکھے تھے، جو ایران میں مزاحمت اور انتقام کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جبکہ شرکاء نے امریکہ مخالف اور انتقامی نعرے بھی لگائے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کو شہید رہبرِ انقلاب کی عظمت، وقار اور عوامی مقبولیت کا ثبوت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کا غیرمعمولی سوگ اس بات کی واضح علامت ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے قوم پر گہرا اثر چھوڑا ہے، جبکہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے رویے پر بھی تنقید کی۔

اپنے الگ تعزیتی پیغام میں صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران ہرگز کمزور نہیں ہوگا اور شہید رہنما کا مشن جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ غم کے باوجود ایرانی قوم اپنے عزم کے ساتھ ثابت کرے گی کہ شہید قائد کا بلند کیا ہوا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوگا۔

ادھر حزب اللہ اور حماس کے اعلیٰ سطحی وفود نے بھی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حزب اللہ کے وفد کی قیادت سابق وزیر محمد فنیش نے کی، جبکہ حماس کے وفد کی سربراہی تنظیم کے سیاسی بیورو کے سربراہ محمد درویش نے کی، جن کے ہمراہ دیگر اعلیٰ رہنما بھی موجود تھے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ہونے والی عوامی سوگواریاں دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا۔

رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران نے جنازے کی تقریبات مکمل ہونے تک مذاکرات کو عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے اور اس دوران دونوں ممالک کسی فوجی کارروائی سے گریز کریں گے تاکہ سفارتی عمل متاثر نہ ہو۔

دریں اثنا جلاوطن سابق ایرانی ولی عہد رضا پہلوی نے نمازِ جنازہ اور سرکاری سوگ کی تقریبات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب تمام ایرانی عوام کی نمائندہ نہیں بلکہ حکومتی بیانیے کا حصہ ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت عوامی وسائل استعمال کر کے ایک سیاسی مظاہرہ منعقد کر رہی ہے، جبکہ ان کے بقول ایران میں بڑی تعداد میں لوگ سیاسی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفینی تقریبات آئندہ کئی روز تک جاری رہیں گی، جبکہ ملک بھر میں سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حالات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں