کوئٹہ (ایم این این): بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اتوار کے روز پیش آنے والے دو علیحدہ قبائلی تنازعات میں ایک کمسن بچی سمیت آٹھ افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔ حکام کے مطابق واقعات قلعہ عبداللہ اور ڈیرہ بگٹی میں پیش آئے، جہاں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
پہلا واقعہ قلعہ عبداللہ کے علاقے کلی بدوان میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے مخالف قبیلے پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ پولیس کے مطابق چار قبائلی افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ شدید زخمی ہونے والی ایک کمسن بچی دورانِ علاج کوئٹہ میں دم توڑ گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور فرار ہونے سے قبل سینکڑوں ہوائی فائر بھی کرتے رہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ ایک پرانی قبائلی دشمنی کا نتیجہ تھا۔ پولیس نے بتایا کہ حملہ آور اپنے قبیلے کے چھ افراد کے سابقہ قتل کا بدلہ لینے آئے تھے، جبکہ ایک حملہ آور نے موقع پر مبینہ طور پر اعلان بھی کیا کہ آج انہوں نے اپنا انتقام پورا کر لیا ہے۔
واقعے کے بعد متاثرہ قبیلے کے افراد نے لاشیں رکھ کر کوئٹہ۔چمن شاہراہ کو احتجاجاً بند کر دیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منظور مگسی، اسسٹنٹ کمشنر اور قبائلی عمائدین کی کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا اور کئی گھنٹوں بعد ٹریفک بحال ہوگئی۔
دوسرا واقعہ ڈیرہ بگٹی میں پیش آیا، جہاں شادی کے رشتے کے تنازع پر بگٹی قبیلے کے دو گروپوں کے درمیان مسلح تصادم ہوگیا۔
پولیس کے مطابق دونوں فریق خودکار ہتھیاروں سے لیس ہو کر آمنے سامنے آگئے اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں دونوں جانب سے چار افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔
زخمی کو فوری طور پر ضلعی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ مزید کشیدگی روکنے کے لیے علاقے میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ حکام دونوں واقعات کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔



