جدید زراعت اور کسانوں کی ترقی کی راہ ہموار، قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی منظور

اسلام آباد: ایم این این

حکومت پاکستان نے زرعی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2025 کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کے فیصلے کو زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور کسانوں کی آمدن میں اضافے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2025 کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں زراعت کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا اور کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے مستفید کرنا ہے۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق یہ پالیسی تقریباً اڑھائی سال پر محیط مشاورتی عمل کے بعد تیار کی گئی، جس میں سائنسدانوں، زرعی ماہرین، کسانوں، صنعت اور متعلقہ اداروں سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔

پالیسی کے تحت زرعی پیداوار میں اضافہ، غذائی تحفظ کو یقینی بنانا، کسانوں کی آمدن بہتر بنانا، ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور جدید زرعی بائیوٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جدید بائیوٹیکنالوجی کے استعمال سے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، بیماریوں اور کیڑوں سے ہونے والے نقصانات میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے بہتر انداز میں نمٹنے میں مدد ملے گی۔

اعلامیے کے مطابق جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مکئی نے پاکستان کے تمام مقررہ حفاظتی اور ریگولیٹری مراحل کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد منظوری حاصل کر لی ہے، جس سے جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کی راہ مزید ہموار ہوگی۔

حکومت کو توقع ہے کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال سے پاکستان کی مکئی کی برآمدات موجودہ تقریباً 288 سے 345 ملین ڈالر کی سطح سے بڑھ کر ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2025 پر مؤثر عملدرآمد نہ صرف زرعی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں اضافہ کرے گا بلکہ کسانوں کی آمدن میں بہتری اور ملکی معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں