سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، پاکستان کے پانی کے حقوق قانونی طور پر محفوظ ہیں: عطا اللہ تارڑ

اسلام آباد (ایم این این): وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) ایک قانونی طور پر نافذ العمل بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے بھارت یکطرفہ طور پر نہ معطل کر سکتا ہے، نہ ختم کر سکتا ہے اور نہ ہی اس میں ترمیم کر سکتا ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پانی کے حقوق کو عالمی سطح پر قانونی حمایت حاصل ہے اور بین الاقوامی برادری نے بھی پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے طے پایا تھا اور آج بھی پوری طرح نافذ العمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ پانی پاکستان کی شہ رگ اور قومی سرخ لکیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوششوں کو کسی بھی بین الاقوامی فورم پر پذیرائی نہیں ملی جبکہ پاکستان کے قانونی مؤقف کو عالمی سطح پر تقویت حاصل ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ منگل کو اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوگا، جس میں دنیا بھر سے آبی وسائل، بین الاقوامی قانون اور ماحولیات کے ماہرین شرکت کریں گے اور پاکستان کے آبی حقوق پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصددق ملک نے کہا کہ بین الاقوامی عدالتِ ثالثی بھی سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی توثیق کر چکی ہے، جس سے پاکستان کی قانونی حیثیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔

انہوں نے بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کو اس کے حصے کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین اثرات ملک کی غذائی سلامتی، زرعی پیداوار اور قومی معیشت پر مرتب ہوں گے۔

مصددق ملک نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 40 سے 50 فیصد آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے جبکہ زرعی شعبہ ملکی معیشت کا تقریباً 25 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، اس لیے پانی کی فراہمی میں رکاوٹ لاکھوں افراد کے معاشی مستقبل کو متاثر کر سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ ملک کو اس کے پانی سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ بین الاقوامی انصاف اور مشترکہ دریاؤں کے استعمال سے متعلق عالمی اصولوں کا بھی امتحان ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بالائی کنارے پر واقع کوئی ملک اپنی مرضی سے زیریں کنارے والے ملک کا پانی روکنے لگے تو اس کے عالمی آبی قوانین پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ دنیا کے بیشتر خطوں میں باقاعدہ معاہدے کے بغیر بھی دریاؤں کا بہاؤ جاری رکھا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر نے ملک میں نئے ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر پر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے مؤثر انتظام اور ذخیرہ سازی کے بغیر مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنا ممکن نہیں ہوگا۔

1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دریائے سندھ کے نظام کے پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے یا دریاؤں کے بہاؤ میں ردوبدل کی کوئی بھی کوشش نہ صرف سندھ طاس معاہدے بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی صریح خلاف ورزی ہوگی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں