سپریم کورٹ کی جیل اصلاحات کانفرنس میں سیاسی قیدیوں کا معاملہ ، چاروں وزرائے اعلیٰ کا تاریخی “اسلام آباد ڈیکلریشن” پر اتفاق

اسلام آباد (ایم این این): پاکستان کی جیلوں میں اصلاحات، قیدیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور جیل نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہونے والی قومی کانفرنس سیاسی رنگ اختیار کر گئی، جہاں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ نے اصلاحات کے ساتھ ساتھ سیاسی قیدیوں کے معاملات بھی بھرپور انداز میں اٹھائے۔

نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے زیر اہتمام منعقدہ اس کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے “اسلام آباد ڈیکلریشن برائے جیل اصلاحات” کی متفقہ منظوری دی، جس میں جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں، زیر سماعت مقدمات، بنیادی سہولیات کی کمی، صحت، ذہنی صحت، تعلیم، فنی تربیت اور بحالی کے نظام میں بہتری لانے کے لیے مشترکہ اصلاحاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا گیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ جیلیں دراصل ملک کے فوجداری نظامِ انصاف کا آئینہ ہوتی ہیں۔ اگر جیلوں کی حالت بہتر ہو جائے تو انصاف کا پورا نظام مضبوط ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل اصلاحات صرف عدلیہ کی نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے صوبائی حکومتوں کی جانب سے نیشنل پرزن ریفارم ایکشن پلان پر عملدرآمد کے عزم کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقل سیاسی عزم، وسائل اور ادارہ جاتی تعاون کے بغیر اصلاحات ممکن نہیں۔

مریم نواز نے قید تنہائی کے تلخ تجربات بیان کر دیے

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کانفرنس میں اپنی قید کے دوران پیش آنے والے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جیل کی زندگی نے ان کی سوچ ہمیشہ کے لیے بدل دی۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں اڈیالہ جیل میں 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا، جہاں انہوں نے ذہنی دباؤ، تنہائی اور بے بسی کو قریب سے محسوس کیا۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص جیل میں رہ چکا ہو وہی قیدی کی اصل تکلیف سمجھ سکتا ہے۔

مریم نواز نے بتایا کہ وہ اور ان کے والد سابق وزیراعظم نواز شریف ایک ہی وقت میں قید تھے جبکہ ان کی والدہ شدید علیل تھیں، مگر دونوں کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ اپنی والدہ کے آخری ایام میں نہ ان کے پاس بیٹھ سکیں، نہ ان کا ہاتھ تھام سکیں اور نہ ہی انہیں آخری بار دیکھ سکیں، اور یہ دکھ آج بھی ان کے دل میں موجود ہے۔

انہوں نے ایک اور واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ جیل میں ان کی شوگر خطرناک حد تک کم ہوگئی لیکن کوئی مدد کے لیے نہیں آیا۔

“میرے ہاتھ کانپ رہے تھے، گڑ کی بوتل ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گئی، پھر میں نے فرش سے گڑ اٹھا کر کھایا تاکہ طبیعت سنبھل سکے۔”

مریم نواز نے بتایا کہ ان کی جیل کی کوٹھڑی میں واش روم اور سونے کی جگہ کے درمیان کوئی پردہ تک موجود نہیں تھا۔

“مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ جائے نماز کہاں بچھاؤں۔”

ان کا کہنا تھا کہ انہی تجربات نے انہیں جیل اصلاحات پر سنجیدگی سے کام کرنے پر مجبور کیا۔

پنجاب کی جیلوں میں جدید اصلاحات

وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ صوبے کی تمام جیلوں میں جدید سہولیات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب قیدیوں کو ویڈیو لنک، آڈیو اور ویڈیو کالنگ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ سے رابطے میں رہ سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ تمام جیلوں میں ایمرجنسی پینک بٹن نصب کیے جا چکے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں قیدی فوری مدد حاصل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ انسانی جان بند دروازوں کے پیچھے انتظار نہیں کر سکتی، اس لیے فوری رسپانس سسٹم ناگزیر ہے۔

مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب میں اس وقت 45 جیلوں میں تقریباً 69 ہزار قیدی موجود ہیں جبکہ مجموعی گنجائش صرف 39 ہزار افراد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً تین چوتھائی قیدی زیر سماعت ہیں، اس لیے جیل اصلاحات کو فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات کے بغیر کامیاب نہیں بنایا جا سکتا۔

انہوں نے ذہنی صحت، کونسلنگ، تعلیم، ہنر مندی، بحالی اور رہائی کے بعد معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے پروگراموں کو ناگزیر قرار دیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عمران خان کا معاملہ اٹھا دیا

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خطاب کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور جیل میں سہولیات کا معاملہ چیف جسٹس کے سامنے اٹھایا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی ایک آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے، اس لیے انہیں ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو اہل خانہ سے باقاعدہ ملاقاتوں، اپنے بیٹوں سے ویڈیو لنک پر گفتگو اور مناسب طبی سہولیات کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں جیلوں کے باہر آنے والے افراد کے لیے انتظار گاہیں تعمیر کی جا رہی ہیں، اسی طرح اڈیالہ جیل میں بھی زائرین، خصوصاً پی ٹی آئی کارکنوں کے لیے مناسب سہولیات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن استعمال کرنے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ جمہوری معاشرے میں سیاسی کارکنوں کے ساتھ ایسا رویہ مناسب نہیں۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ پاکستان کا آئین قومی اتحاد کی ضمانت ہے، مگر اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

بلوچستان کا مؤقف

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیل اصلاحات صرف عمارتوں کی بہتری تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ قیدیوں کو تعلیم، فنی تربیت، نفسیاتی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ باعزت زندگی گزارنے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔

اسلام آباد ڈیکلریشن کی اہم شقیں

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کانفرنس کے اختتام پر اسلام آباد ڈیکلریشن پڑھ کر سنایا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کی جیلیں اس وقت شدید مسائل سے دوچار ہیں، جن میں گنجائش سے زیادہ قیدی، زیر سماعت مقدمات کی بڑی تعداد، ناکافی انفراسٹرکچر، صحت اور ذہنی صحت کی سہولیات کی کمی اور بحالی کے محدود مواقع شامل ہیں۔

چاروں صوبائی حکومتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ:

غیر ضروری گرفتاریوں اور قید میں کمی لانے کے لیے ضمانت، قانونی معاونت، پیرول، پروبیشن اور دیگر متبادل اقدامات کو فروغ دیا جائے گا۔
جیلوں میں صحت، صفائی، خوراک، ذہنی صحت، شکایات کے ازالے اور تشدد کی روک تھام کے لیے سرمایہ کاری بڑھائی جائے گی۔
تعلیم، فنی تربیت، نفسیاتی معاونت، منشیات سے بحالی اور رہائی کے بعد بحالی کے پروگراموں کو وسعت دی جائے گی۔
پولیس، پراسیکیوشن، عدلیہ، جیل انتظامیہ، قانونی امداد اور سماجی بہبود کے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا جائے گا۔
ہر صوبہ مقررہ مدت کے اندر اصلاحاتی منصوبہ تیار کرے گا اور اس پر عملدرآمد کی باقاعدہ نگرانی کرے گا۔

اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جیل اصلاحات محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ آئینی، انسانی اور عوامی تحفظ کا تقاضا ہیں۔

فواد چوہدری کی تنقید

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اسلام آباد ڈیکلریشن کو محض ایک نمائشی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں عملی اقدامات، ٹائم لائن، احتساب اور نفاذ کا واضح طریقہ کار موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلے ہی متعدد قوانین، رپورٹیں اور جیل رولز موجود ہیں، اصل مسئلہ ان پر عملدرآمد نہ ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی کانفرنسوں اور اعلانات کے بجائے موجودہ قوانین پر مؤثر عمل ہی حقیقی جیل اصلاحات لا سکتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ بھی رہی کہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کانفرنس کا بنیادی مقصد جیل اصلاحات تھا، تاہم پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کی تقاریر نے سیاسی قیدیوں، عدالتی نظام اور آئینی حقوق سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی۔ اس کے باوجود چاروں صوبوں کا متفقہ اسلام آباد ڈیکلریشن پاکستان میں جیل اصلاحات کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس پر مؤثر عملدرآمد آئندہ برسوں میں ملک کے فوجداری نظام میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں