لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کا عدالت میں اغوا، بھتہ خوری اور جنسی زیادتی کا الزام، ملزمان کے خلاف کارروائی جاری

لاہور (ایم این این): دو غیر ملکی خواتین نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کراتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں لاہور میں کئی روز تک اغوا، تشدد، بھتہ خوری اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ دونوں خواتین کے بیانات ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت قلمبند کیے گئے، جو جاری تفتیش کا اہم حصہ ہیں۔

پولیس نے خواتین کی بازیابی کے بعد ڈیفنس سی تھانے میں مقدمہ درج کیا، جس میں پانچ افراد کو نامزد کیا گیا۔ ان میں سے چار ملزمان، جن میں ایک سینئر سیاسی شخصیت کا قریبی رشتہ دار بھی شامل ہے، گرفتار کر لیے گئے ہیں اور عدالت نے انہیں پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

ڈچ شہری خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اور ان کی وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دوست 26 جون 2026 کو ایک مقامی کاروباری شخصیت کی دعوت پر پاکستان آئیں، جس سے ان کی ملاقات اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ہوئی تھی۔ ملزم نے ان کے مطابق اعلیٰ سرمایہ کاروں سے کاروباری ملاقاتوں کا وعدہ کیا اور ویزوں کا بھی انتظام کیا۔

خواتین نے اسلام آباد میں تین روز قیام کیا، جہاں انہوں نے نتھیا گلی کی سیر کی اور کاروباری پریزنٹیشنز میں شرکت کی، جس کے بعد 29 جون کو لاہور روانہ ہوئیں۔

مدعیہ کے مطابق لاہور پہنچنے پر انہیں ایک جدید گھر میں سالگرہ کی تقریب کے بہانے لے جایا گیا، جہاں چند ہی منٹ بعد چار مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے، دونوں خواتین کے ہاتھ باندھ دیے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

خاتون نے الزام لگایا کہ مرکزی ملزم نے ابتدا میں خود کو بھی متاثرہ ظاہر کیا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مسلح گروہ کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ اغوا کاروں نے مبینہ طور پر دو ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا اور رقم نہ ملنے پر خواتین کو قتل کرنے اور ان کے اعضا فروخت کرنے کی دھمکیاں دیں۔

بیان کے مطابق دونوں خواتین کو الگ الگ کمروں میں رکھا گیا۔ ڈچ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ان کے موبائل فون سے تقریباً 17 ہزار ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی منتقل کی اور انہیں اہل خانہ سے رقم منگوانے کے لیے آواز کے پیغامات بھیجنے پر مجبور کیا۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خفیہ طور پر “CARLITOS” نامی پہلے سے طے شدہ کوڈ ورڈ اپنے پیغام میں شامل کر دیا، جس کے بعد یورپ میں موجود ان کے اہل خانہ نے فوری طور پر بین الاقوامی اور پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دی۔

متاثرہ خاتون نے مزید الزام لگایا کہ 30 جون کو ایک مسلح شخص نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

انہوں نے بیان میں کہا کہ یکم جولائی کو مرکزی ملزم انہیں ایئرپورٹ لے جانے کا بہانہ بنا کر گاڑی میں لے گیا، تاہم خفیہ موبائل فون کے ذریعے راستہ دیکھنے پر انہیں شک ہوا کہ انہیں کسی اور مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

راستے میں ایک معمولی ٹریفک حادثے کے بعد گاڑی کی رفتار کم ہوئی تو دونوں خواتین موقع پا کر گاڑی سے نکلیں اور چیختے ہوئے ایک قریبی مکینک کی ورکشاپ میں پناہ لے لی۔ وہاں موجود ٹریفک پولیس اہلکار نے فوری طور پر امدادی ٹیم طلب کر لی۔

شدید ذہنی صدمے کے باعث دونوں خواتین ابتدا میں پولیس سے بھی خوفزدہ رہیں، تاہم بعد میں سینئر پولیس افسران اور ایک خاتون پولیس اہلکار نے انہیں اعتماد میں لیا اور بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے گزشتہ 48 گھنٹوں سے ان کے اغوا کے کیس کی نگرانی کر رہے تھے۔

بعد ازاں دونوں خواتین کو بحفاظت تھانے منتقل کیا گیا۔ مجسٹریٹ نے رضاکارانہ بیان کی تصدیق کے بعد ریکارڈ کو قانونی کارروائی کے لیے سیل کر دیا، جبکہ وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دوسری خاتون نے بھی علیحدہ بیان ریکارڈ کرایا، جو ڈچ خاتون کے مؤقف کی تائید کرتا ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ گرفتار ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی بھی آگے بڑھ رہی ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں