وزیر کے قریبی رشتہ دار کو بھی عام ملزم کی طرح قانون کا سامنا کرنا ہوگا، حکومت کی واضح ہدایت

لاہور (ایم این این): لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (آپریشنز) فیصل کامران نے کہا ہے کہ دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کے مقدمے میں ایک سینئر وفاقی وزیر کے قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود حکومت نے پولیس کو واضح ہدایت دی تھی کہ ملزم کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے اور اسے دیگر ملزمان کی طرح قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے۔

اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی نے بتایا کہ پولیس کی اولین ترجیح دونوں غیر ملکی خواتین کی بحفاظت بازیابی تھی۔ اس مقدمے میں پانچ افراد کو نامزد کیا گیا، جبکہ چار ملزمان، جن میں ایک اہم سیاسی شخصیت کا قریبی رشتہ دار بھی شامل ہے، گرفتار ہو چکے ہیں اور انہیں پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔

فیصل کامران نے مرکزی ملزم کی شناخت محمد رضا ڈار کے نام سے کرتے ہوئے بتایا کہ سرگودھا اور دیگر علاقوں میں چھاپوں کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم کا خاندان ماضی میں ایک کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھا اور ان کا تعلق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے خاندان سے بتایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے پہلے اس خاندانی تعلق کی تصدیق کی، پھر اہل خانہ سے حاصل کردہ معلومات کی مدد سے ملزم کا موبائل نمبر اور مقام ٹریس کیا۔

ڈی آئی جی کے مطابق معاملے سے فوری طور پر اعلیٰ حکام اور حکومت کو آگاہ کیا گیا، جس پر حکومت نے واضح ہدایات جاری کیں کہ ملزم کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا، “حکومت کی جانب سے ہمیں سختی سے ہدایت دی گئی کہ ملزم کے ساتھ کسی عام مجرم سے مختلف سلوک نہ کیا جائے۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ تفتیش کے دوران یہ امکان بھی سامنے آیا کہ واقعے کے پیچھے کسی ایک شخص کے بجائے ایک منظم جرائم پیشہ گروہ ملوث ہو سکتا ہے۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی پولیس کو ہدایت دی کہ ملزمان کے خلاف کارروائی مکمل میرٹ اور شفافیت کے ساتھ کی جائے تاکہ کسی بھی مجرم کو سزا سے بچنے کا موقع نہ ملے۔

واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملزم نے خواتین کو یہ تاثر دیا کہ تاوان وصول ہونے کے بعد انہیں ایئرپورٹ لے جایا جا رہا ہے، تاہم جب گاڑی بھٹہ چوک کی جانب مڑ گئی تو خواتین کو شبہ ہوا کہ انہیں کسی اور مقام پر لے جایا جا رہا ہے۔

اسی دوران گاڑی ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی، جس سے دونوں خواتین کو فرار ہونے کا موقع ملا۔ وہ قریب موجود ایک دکان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں اور وہاں سے مدد طلب کی۔

ڈی آئی جی کے مطابق ایک خاتون پورے واقعے کے دوران واٹس ایپ وائس میسجز کے ذریعے اپنے والد کارلوس سے رابطے میں تھیں۔ بعد ازاں کارلوس نے دونوں خواتین کو ڈیفنس کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) کے ساتھ کانفرنس کال پر ملایا، جس سے پولیس کو ان کی درست لوکیشن معلوم ہو گئی۔

سیف سٹی کیمروں اور موبائل فون ٹریکنگ کی مدد سے پولیس نے ملزم کا سراغ لگایا، اسے فوری طور پر سرنڈر کرنے کا کہا اور بعد ازاں ایس پی کینٹ کی ٹیم نے اسے گرفتار کر لیا۔

ڈی آئی جی نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ خواتین کو پولیس نے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی جان بچائی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق دوپہر 12:40 بجے ایمرجنسی کال موصول ہوئی، جس کے بعد اسپین میں موجود اہل خانہ سے رابطہ کیا گیا اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے خواتین کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ قانونی کارروائی میں کوئی ایسی خامی نہ رہ جائے جس سے ملزمان کو فائدہ پہنچ سکے۔ دونوں خواتین کا طبی معائنہ ان کی رضامندی اور متعلقہ سفارت خانوں کی معاونت سے کرایا گیا۔

فیصل کامران نے بتایا کہ خواتین ابتدا میں اپنے طے شدہ سفری پروگرام کی وجہ سے بیان ریکارڈ کرانے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں، تاہم لاہور پولیس نے ان کے فضائی ٹکٹوں کی تبدیلی کے اخراجات برداشت کیے، جس کے بعد قانونی کارروائی مکمل کی گئی۔ دونوں خواتین 3 جولائی کو پاکستان سے روانہ ہو گئیں۔

ان کے مطابق روانگی سے قبل دونوں خواتین نے لاہور پولیس کے پیشہ ورانہ رویے کو سراہا اور یادگار کے طور پر پاکستان کا قومی پرچم ساتھ لے جانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

مجسٹریٹ کی رہائش گاہ میں داخلے پر ڈی آئی جی کی معذرت، SHO کے خلاف کارروائی

پریس کانفرنس کے دوران ڈی آئی جی فیصل کامران نے اس واقعے پر بھی وضاحت دی جس میں ایک ایس ایچ او بیان ریکارڈ کرانے کے لیے ڈیوٹی مجسٹریٹ کی سرکاری رہائش گاہ میں داخل ہوگیا تھا۔

انہوں نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے عدلیہ سے معذرت کی، تاہم کہا کہ پولیس نے ڈیوٹی مجسٹریٹ سے بارہا رابطے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملی۔ متعدد بار گھنٹی بجانے کے باوجود جواب نہ ملنے پر ایس ایچ او کھلا دروازہ دیکھ کر اندر داخل ہوگیا، جبکہ بعد میں معلوم ہوا کہ مجسٹریٹ حال ہی میں نئی رہائش گاہ منتقل ہوئے تھے۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ مجسٹریٹ کے تحفظات بجا ہیں، اسی لیے متعلقہ ایس ایچ او کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد ڈی آئی جی فیصل کامران بریفنگ ادھوری چھوڑ کر روانہ ہوگئے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں