پانچویں قومی لیبر کانفرنس میں محنت کشوں کو مرکزی حیثیت دینے پر زور

اسلام آباد: ایم این این

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل میں محنت کشوں کے حقوق اور روزگار کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ پانچویں قومی لیبر کانفرنس میں حکومت، ٹریڈ یونینز، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اسلام آباد میں فریڈرش ایبرٹ شٹفٹنگ (FES) پاکستان کے زیر اہتمام پانچویں قومی لیبر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع تھا “باوقار روزگار اور منصفانہ توانائی کی منتقلی”۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل ترقی چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پاکستان کے پاس پالیسیوں کی کمی نہیں، اصل ضرورت موجودہ پالیسیوں پر مؤثر اور عملی عملدرآمد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت باوقار روزگار، مزدور اداروں کی مضبوطی اور معاشی و ماحولیاتی تبدیلی کے دوران کسی بھی محنت کش کو نظرانداز نہ کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
ایف ای ایس پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر فیلیکس کولبٹز نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، غیر رسمی معیشت میں کام کرنے والے محنت کشوں کے مسائل اور بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق مؤثر سماجی مکالمے، مضبوط مزدور تحفظ، صنفی حساس پالیسیوں اور مزدور تنظیموں کی فعال شمولیت کے بغیر منصفانہ توانائی کی منتقلی ممکن نہیں۔

ریجنل کلائمیٹ کوآرڈینیٹر سدرا سعید نے زور دیا کہ موسمیاتی اقدامات کو سماجی انصاف، روزگار کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے شواہد پر مبنی پالیسی سازی ناگزیر ہے۔
کانفرنس کے دوران ماہرین نے غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے لیے سماجی تحفظ، ٹریڈ یونینز کے کردار، بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور ان کے محنت کشوں و صارفین پر اثرات پر تحقیقی مطالعات بھی پیش کیے۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دی جائے، اجتماعی سودے بازی کو مضبوط بنایا جائے، گرین جابز میں سرمایہ کاری کی جائے، مزدور قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور حکومت، آجروں اور محنت کشوں کے درمیان باقاعدہ سماجی مکالمے کو فروغ دیا جائے۔
کانفرنس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی سبز معیشت کی جانب پیش رفت اسی وقت کامیاب ہوگی جب موسمیاتی پالیسیوں کے مرکز میں محنت کشوں کے حقوق، سماجی انصاف اور باوقار روزگار کو رکھا جائے تاکہ ترقی کے سفر میں کوئی بھی محنت کش یا کمیونٹی پیچھے نہ رہ جائے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں