واشنگٹن (ایم این این)؛ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایران کے تین آئل ٹینکروں کو تباہ یا ناکارہ بنا دیا، جس سے قبل ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) کی جانب سے دو امریکی جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کا الزام عائد کیا گیا۔
سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا کہ ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر مبینہ ایرانی حملوں سے محفوظ رہے اور اس دوران کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
امریکی کمانڈ کے مطابق مبینہ حملوں کے بعد امریکی فورسز نے آئی آر جی سی سے منسلک تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔
سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ خارج آئی لینڈ کے قریب موجود ایم ٹی ڈاؤنی اور جاسک کے قریب موجود ایم ٹی اسٹارک 1 کو مستقل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا۔
امریکی فورسز نے مزید دعویٰ کیا کہ خلیج عمان میں موجود خالی آئل ٹینکر ایم ٹی کائیلو، جسے نوکسن بھی کہا جاتا ہے، کو متعدد اہم مقامات پر نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق ٹینکر کے عملے کو حملے سے قبل جہاز چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
سینٹ کام نے الزام عائد کیا کہ یہ تینوں جہاز ایک اربوں ڈالر کے “شیڈو نیٹ ورک” کا حصہ تھے، جس کے ذریعے آئی آر جی سی کو مالی معاونت فراہم کی جاتی تھی۔
سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ اگر امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو امریکا ایران پر مزید اقتصادی قیمت عائد کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فورسز اپنے اہلکاروں اور جنگی جہازوں کے دفاع کے لیے مزید کارروائی سے گریز نہیں کریں گی۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے بھی کہا کہ ایران کا آئل ٹینکر بیڑا امریکی فوجی کارروائی کے مقابلے میں غیر محفوظ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران امریکی بحری جہازوں پر حملہ کرے گا تو امریکا ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے گا۔
ہیگستھ کے مطابق امریکی آبدوزیں، جنگی جہاز اور جنگی طیارے سینٹرل اور پیسیفک کمانڈ کے علاقوں میں ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خارج آئی لینڈ کے قریب ایرانی ٹینکر پر حملے کی رپورٹ
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ ملک کے اہم تیل برآمدی مرکز خارج آئی لینڈ کے قریب ایک آئل ٹینکر کو امریکی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق خارج آئی لینڈ کی لنگر انداز ہونے والی جگہ کے قریب ایک ٹینکر پر چار امریکی میزائل داغے گئے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے بتایا کہ امریکی حملے کا نشانہ بننے والے دو آئل ٹینکروں کے عملے کو لائف بوٹس کے ذریعے بحفاظت ساحل پر پہنچا دیا گیا۔
ایرانی حکام کی جانب سے امریکی فوج کے تمام دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران اقتصادی جنگ کی تیاری کر رہا ہے
ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی خودمختاری کے خلاف مختلف چیلنجز اور مبینہ فوجی، اقتصادی، سماجی اور سیاسی سازشوں کا مقابلہ کیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکا کی قیادت میں قائم “نظام تسلط” کی جانب سے اسلامی جمہوریہ کو کمزور کرنے کی کوششوں کو بارہا ناکام بنایا ہے۔
محمد رضا عارف نے کہا کہ ایران کی طویل المدتی حکمت عملی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک اور خطے کے عوام کی ضروریات پوری کرنے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ممکنہ “اقتصادی جنگ” کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔
ایرانی فوج میں اے آئی پر مبنی بھرتی نظام
دریں اثنا، ایرانی فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ جدید جنگ میں قوت ارادی، برداشت اور ٹیکنالوجی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی فوج نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک جامع بھرتی، انتخاب اور ملازمت کا نظام متعارف کرایا ہے۔
یہ نظام مختلف فوجی یونٹس کو باصلاحیت افراد کی شناخت، جانچ اور بھرتی میں مدد فراہم کرے گا جبکہ آن لائن ٹیسٹنگ کی سہولت بھی موجود ہوگی۔
سیاری نے کہا کہ کسی بھی ادارے کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے انسانی وسائل ہوتے ہیں اور معیاری انسانی وسائل اداروں کی ترقی اور فوجی صلاحیتوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اصفہان کی جوہری تنصیبات پر حملے کی خبروں کی تردید
دوسری جانب آئی آر جی سی کے امام صاحب الزمان کور نے اصفہان صوبے میں جوہری مراکز اور تنصیبات پر امریکا یا اسرائیل کے حملے سے متعلق خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق کور نے اپنے بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی یہ خبریں مکمل طور پر جھوٹی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اصفہان کی جوہری تنصیبات پر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کوئی حملہ نہیں ہوا۔
آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ حساس حالات میں غلط معلومات پھیلانے کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا، کشیدگی بڑھانا اور عوامی ذہنی سکون کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔



