کھٹمنڈو (ایم این این)
نیپال میں ریسکیو ٹیموں نے تباہ کن سیلاب کے 10 روز بعد ملبے سے بھری ایک سرنگ سے چینی شہری کو زندہ نکال لیا، جس کے بعد لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے جاری آپریشن میں نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔
نیپالی فوج کے مطابق چینی شہری کو ہفتے کے روز ضلع راسووا میں اپر تریشولی-1 ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی سرنگ کے اندر تقریباً 225 میٹر فاصلے سے زندہ نکالا گیا۔
ریسکیو آپریشن میں نیپالی فوج کے اہلکاروں کے ساتھ غیر ملکی ماہرین نے بھی حصہ لیا۔
نجات پانے والے شخص کی شناخت صرف لوہائی تاؤ کے نام سے کی گئی ہے۔ نیپالی فوج کی جانب سے جاری تصویر میں اسے دو ریسکیو اہلکاروں کے سہارے سرنگ سے باہر لایا جاتا دکھایا گیا۔
شدید کیچڑ سے لت پت ہونے کے باوجود وہ ہوش میں اور بظاہر مستحکم نظر آیا۔
فوج کے مطابق اس کی طبی حالت کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ دیگر لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یہ شخص ان سینکڑوں ہائیڈرو پاور کارکنوں میں شامل تھا جو 26 اگست کو ایک بڑے گلیشیئر اور چٹانی تودے کے گرنے کے بعد آنے والے سیلاب اور مٹی کے بڑے ریلے کے باعث لاپتہ ہو گئے تھے۔
اس سے ایک روز قبل تریشولی 3 اے سرنگ سے دو نیپالی ہائیڈرو پاور کارکنوں کو بھی نو روز بعد زندہ نکال لیا گیا تھا۔
ان افراد کی بازیابی کے بعد امید پیدا ہوئی ہے کہ دیگر بند سرنگوں میں بھی مزید افراد زندہ موجود ہو سکتے ہیں۔
تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 12 ہائیڈرو پاور منصوبے تباہ ہو گئے۔
نیپال کے قومی ڈیزاسٹر ادارے کے مطابق اب تک 1,344 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ تقریباً 5 ہزار افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
چین میں سرکاری میڈیا کے مطابق 31 افراد ہلاک اور 531 لاپتہ ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1,375 ہو گئی ہے جبکہ 5,500 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
ریسکیو آپریشن جاری
نیپالی فوج کے ترجمان راجا رام بسنت نے کہا کہ سرنگوں میں زندہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
حکام نے ابتدا میں امید ظاہر کی تھی کہ مختلف سرنگوں میں 100 سے زائد کارکن زندہ موجود ہو سکتے ہیں۔
بھارت، چین، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کے ماہرین بھی نیپالی ریسکیو ٹیموں کی مدد کر رہے ہیں۔
مشکل حالات کے باوجود کئی روز بعد زندہ افراد کی بازیابی نے امدادی کارکنوں کو تلاش کا عمل مزید تیز کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔
ہزاروں متاثرین امدادی کیمپوں میں
دوسری جانب، تباہی کے بعد ہزاروں بے گھر افراد عارضی امدادی کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔
مردہ خانوں میں گنجائش ختم ہونے کے باعث نیپالی پولیس کے مطابق تقریباً 1,030 لاشوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کے بعد انہیں اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا۔
وزیراعظم بالیندر شاہ نے کہا ہے کہ حکومت متاثرہ افراد کو محفوظ اور بہتر رہائش فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ امدادی کیمپوں میں زندگی آسان نہیں، تاہم حکومت متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ اپنے مستقبل کی تعمیر اور بہتر زندگی کی امید فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔



