دی ہیگ (ایم این این)؛ نیدرلینڈز یورپ کا تازہ ترین ملک بن گیا ہے جس نے بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی کے پیش نظر اپنے سونے کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ امریکا سے منتقل کر دیا ہے۔
نیدرلینڈز کے مرکزی بینک ڈی نیدرلینڈشے بینک (DNB) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے 86 ٹن سونا امریکا اور کینیڈا سے منتقل کر کے لندن پہنچا دیا ہے۔
ڈچ مرکزی بینک کے مطابق یہ عمل مارچ سے اگست کے درمیان مکمل کیا گیا اور اس کا مقصد بڑھتی ہوئی جغرافیائی بے چینی کے دوران ملک کی “بحرانی تیاری” اور مالیاتی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔
منتقل کیے جانے والے سونے کا زیادہ تر حصہ نیویارک سے جبکہ باقی کینیڈا سے منتقل کیا گیا۔ مجموعی طور پر صرف تقریباً 27 ٹن سونا بحری راستے سے بحرِ اوقیانوس عبور کر کے لندن پہنچایا گیا، جبکہ باقی ذخائر شمالی امریکا میں فروخت کر کے لندن میں اتنی ہی مقدار میں سونا دوبارہ خرید لیا گیا۔
منتقلی سے قبل ڈچ مرکزی بینک کے تقریباً 313 ٹن سونے کے ذخائر شمالی امریکا میں موجود تھے۔
ڈی این بی کے گورنر اولاف سلائیپن نے کہا کہ اس اقدام سے نیدرلینڈز کے سونے کے ذخائر کی خرید و فروخت اور ضرورت کے وقت استعمال کی صلاحیت بہتر ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کو امید ہے کہ اسے کبھی ان ذخائر کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، تاہم ممکنہ بحرانوں کے لیے ملک کی استعداد اور تیاری کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
نیدرلینڈز کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متعدد ممالک اپنے سونے کے ذخائر پر زیادہ براہِ راست کنٹرول حاصل کرنے کے لیے انہیں امریکا سے منتقل کر رہے ہیں۔
فرانس کے مرکزی بینک نے بھی مبینہ طور پر جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے دوران نیویارک میں امریکی فیڈرل ریزرو کے پاس موجود اپنے آخری 129 ٹن سونے کو فروخت کر دیا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم سے یورپ میں اتنی ہی مقدار میں سونا خرید لیا۔ اس کے بعد فرانس کے پاس امریکا میں سونے کا کوئی ذخیرہ باقی نہیں رہا۔
جرمنی نے بھی ماضی میں اپنے سونے کے بڑے ذخائر واپس منتقل کیے تھے۔ 2017 میں جرمن مرکزی بینک، بنڈس بینک نے اعلان کیا تھا کہ اس نے نیویارک سے 300 ٹن سونا جرمنی کے شہر فرینکفرٹ منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے دوران کئی نمایاں جرمن ماہرین اقتصادیات نے بھی امریکا میں موجود جرمنی کے باقی سونے کے ذخائر واپس لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
وینزویلا نے بھی سابق صدر ہیوگو شاویز کے دور میں بیرونِ ملک بینکوں میں موجود اپنے سونے کے ذخائر کی ایک بڑی مقدار وطن واپس منتقل کی تھی۔ جنوری 2012 تک تقریباً 160 ٹن سونا وینزویلا واپس لایا جا چکا تھا۔
تاہم وینزویلا کے تقریباً 31 ٹن سونے کے ذخائر اب بھی بینک آف انگلینڈ کے پاس موجود ہیں۔ سابق صدر نکولس مادورو کی جانب سے اس سونے کو واپس لانے کی کوششیں اس وقت ناکام ہوئیں جب برطانیہ نے ان کی حکومت کو وینزویلا کی جائز حکومت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ڈچ مرکزی بینک نے بینک آف انگلینڈ کے پاس موجود سونے کو دنیا کے سب سے آسانی سے قابلِ تجارت سونے کے ذخائر میں شمار کیا ہے۔
ڈی این بی کے مطابق 2025 کے اختتام تک نیدرلینڈز کے پاس مجموعی طور پر 612.4 ٹن سونا موجود تھا، جس کی مالیت تقریباً 72 ارب یورو، یعنی 84 ارب امریکی ڈالر بنتی ہے۔



