سڈنی (ایم این این): بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان یورینیم کی طویل المدتی فراہمی کا اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، جس سے بھارت کے سویلین جوہری توانائی پروگرام کو ایندھن کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز کے ساتھ ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان صاف توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا اور بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مودی نے کہا کہ جوہری توانائی سے متعلق یہ معاہدہ آسٹریلیا سے بھارت کو یورینیم کی فراہمی کی راہ ہموار کرے گا اور دونوں ممالک کے صاف توانائی کے اہداف کو نئی رفتار دے گا۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق آسٹریلیا سے برآمد کیا جانے والا یورینیم صرف پرامن مقاصد کے لیے استعمال ہوگا اور اس کی نگرانی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے حفاظتی ضوابط کے تحت کی جائے گی۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ یہ معاہدہ بھارت میں غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی کی پیداوار بڑھانے میں مدد دے گا اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔
بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان 2015 میں سول نیوکلیئر تعاون کا معاہدہ ہوا تھا، تاہم قانونی پیچیدگیوں اور سیاسی حساسیت کے باعث یورینیم کی برآمدات عملی طور پر شروع نہیں ہو سکی تھیں۔
دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ البانیز نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت اور ذاتی دلچسپی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
جون میں جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پہلی مرتبہ بھارت میں پیدا ہونے والے افراد آسٹریلیا میں مقیم سب سے بڑی بیرون ملک پیدا ہونے والی کمیونٹی بن گئے ہیں، جو برطانیہ میں پیدا ہونے والے افراد کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
نریندر مودی نے بعد ازاں میلبورن میں بھارتی برادری کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرنا تھا، جہاں 20 ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع تھی۔
تاہم ان کے دورے کے موقع پر بعض تنظیموں نے احتجاج کا بھی اعلان کیا، جن میں اقلیتی حقوق سے متعلق خدشات ظاہر کرنے والے گروپ اور آسٹریلیا میں امیگریشن مخالف مظاہرین شامل تھے۔
نریندر مودی آسٹریلیا کے دورے کے بعد نیوزی لینڈ روانہ ہوں گے۔



