صبح آنکھ کھلتی ہے تو خبر آتی ہے کہ کسی معصوم بچی کی عصمت دری کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ شام ہوتی ہے تو کسی خاتون کو ہراساں کیے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہوتی ہے۔ کبھی تیزاب گردی، کبھی غیرت کے نام پر قتل، کبھی گھریلو تشدد، اور اب ایک حاضر سروس گروپ کیپٹن کے لرزہ خیز قتل نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا ہے کہ آخر پاکستان میں انسان کی جان، عزت اور وقار کی قیمت کیا رہ گئی ہے؟
ہم ہر سانحے کے بعد چند دن شور مچاتے ہیں، ہیش ٹیگ بناتے ہیں، مذمت کرتے ہیں، پھر اگلے واقعے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ شاید یہی ہماری سب سے بڑی اجتماعی بے حسی ہے۔
ہر بار ایک ہی دلیل دی جاتی ہے کہ سوشل میڈیا نے معاشرہ خراب کر دیا، بے حیائی بڑھ گئی، مغربی ثقافت نے نوجوانوں کو بگاڑ دیا۔ یہ آدھا سچ ہے، اور آدھا سچ اکثر پورا جھوٹ بن جاتا ہے۔
اصل مسئلہ موبائل فون نہیں، موبائل پکڑنے والا ذہن ہے۔
اصل مسئلہ انٹرنیٹ نہیں، وہ کردار ہے جو خواہش کو حق اور عورت کو شکار سمجھنے لگا ہے۔
اصل مسئلہ فیس بک، ٹک ٹاک یا انسٹاگرام نہیں، بلکہ وہ تربیت ہے جو گھروں میں دم توڑ چکی ہے، وہ قانون ہے جس کا خوف ختم ہو چکا ہے، اور وہ معاشرہ ہے جو مجرم کو روکنے کے بجائے متاثرہ شخص کے کردار پر بحث شروع کر دیتا ہے۔
آج ایک خوفناک سوچ جنم لے چکی ہے کہ اگر کوئی عورت گھر سے تعلیم، ملازمت یا اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے نکلے تو بعض بیمار ذہن اسے اپنی خواہشات کی تکمیل کا آسان ہدف سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ سوچ کسی ایک عورت کی نہیں، پورے معاشرے کی توہین ہے۔
عورت کسی کی جاگیر نہیں۔ وہ انسان ہے، شہری ہے، بیٹی ہے، بہن ہے، ماں ہے، اور سب سے بڑھ کر وہ ایک آزاد شخصیت ہے جسے آئین اور مذہب دونوں عزت اور تحفظ دیتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ معاشرے میں موجود چند غیر ذمہ دار رویوں کو بنیاد بنا کر پوری عورت ذات کو بدنام کرنا ایک ایسی ذہنی بیماری بن چکی ہے جو خود جرائم کو جواز فراہم کرتی ہے۔ مجرم ہمیشہ اپنے جرم کا بہانہ ڈھونڈتا ہے، مگر مہذب معاشرے بہانوں کو نہیں، جرم کو دیکھتے ہیں۔

تحریر عائشہ ناز
سوال یہ بھی ہے کہ ریاست کہاں ہے؟
آخر کیوں ہر چند روز بعد کوئی نیا سانحہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے؟ کیوں متاثرہ خاندان برسوں انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے رہتے ہیں؟ کیوں طاقتور ملزم قانون کے شکنجے سے نکل جاتا ہے جبکہ کمزور شہری انصاف کی امید میں بوڑھا ہو جاتا ہے؟
قانون کی بالادستی صرف تقریروں سے قائم نہیں ہوتی، بلکہ فوری، شفاف اور بلاامتیاز انصاف سے قائم ہوتی ہے۔
والدین بھی بری الذمہ نہیں۔ اگر ہم اپنی بیٹیوں کو تو احتیاط کے ہزار سبق دیں، مگر اپنے بیٹوں کو احترامِ انسانیت، ضبطِ نفس اور خواتین کے حقوق نہ سکھائیں تو پھر معاشرے میں توازن کیسے پیدا ہوگا؟ کردار کی تعمیر گھر سے شروع ہوتی ہے، عدالت سے نہیں۔
آج پاکستان کو نئی شاہراہوں سے زیادہ مضبوط کردار کی ضرورت ہے۔ ہمیں بلند و بالا عمارتوں سے زیادہ مضبوط انصاف چاہیے۔ ہمیں ترقی کے نعروں سے پہلے ایک ایسا نظام چاہیے جہاں کسی ماں کو اپنی بیٹی کی سلامتی اور کسی باپ کو اپنے بیٹے کی اخلاقی تربیت کے بارے میں خوف نہ ہو۔
اگر آج بھی ریاست نے اپنی رِٹ قائم نہ کی، اگر مجرم کو فوری سزا نہ ملی، اگر تعلیمی اداروں نے کردار سازی کو ترجیح نہ دی، اگر والدین نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی، اور اگر معاشرے نے خاموش تماشائی بنے رہنے کا فیصلہ کیے رکھا، تو یاد رکھیے… یہ آگ کسی ایک گھر تک محدود نہیں رہے گی۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں دشمن کے حملوں سے کم اور اپنے اخلاقی زوال سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں۔
ہم ایک مہذب ریاست بننا چاہتے ہیں… یا ایسے معاشرے میں زندہ رہنا چاہتے ہیں جہاں ہر نئی صبح کسی نئی لاش، کسی نئی مظلوم بچی اور کسی نئے المیے کی خبر لے کر آئے۔



