واشنگٹن/اسلام آباد (ایم این این): امریکہ کی جانب سے ایرانی خام تیل کی فروخت کی عمومی اجازت (جنرل لائسنس) منسوخ کیے جانے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 3.01 فیصد اضافے کے بعد 74.16 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 2.76 فیصد اضافے کے ساتھ 70.44 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ بعد ازاں کاروبار میں برینٹ 76.03 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 72.20 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہے۔
قیمتوں میں تیزی اس وقت دیکھنے میں آئی جب امریکہ نے ایران کو خام تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا جنرل لائسنس واپس لینے کا اعلان کیا، جسے تہران کے خلاف سخت امریکی پالیسی کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں تین تجارتی ٹینکروں پر حملوں کے بعد سامنے آیا، جن میں قطر کا ایل این جی بردار جہاز بھی شامل تھا۔ قطر نے دعویٰ کیا کہ اس کے جہاز کو ایرانی ڈرون نے نشانہ بنایا، جبکہ عمان کے قریب سعودی پرچم بردار سپر ٹینکر ویدیان (Wedyan) کو بھی نقصان پہنچا، تاہم اس کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔
ایک امریکی عہدیدار نے آبنائے ہرمز میں ایران کی کارروائیوں کو “مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ تجارتی جہازوں پر حملوں کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی اب بھی انتہائی نازک مرحلے میں ہے۔
میزوہو کے ڈائریکٹر برائے انرجی فیوچرز باب یاوگر نے کہا کہ ایرانی تیل کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن سمجھتا ہے کہ ایران حد سے آگے بڑھ گیا ہے، تاہم ان کے مطابق اس اقدام سے نہ تو ایران کی تیل برآمدات پر فوری بڑا اثر پڑے گا اور نہ ہی جامع معاہدے کے امکانات مکمل طور پر ختم ہوں گے۔
آئی سی آئی ایس کے ڈائریکٹر اجے پرمار نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں مزید حملے ہوئے یا ایران نے دوبارہ اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کرنے کی دھمکی دی تو عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاؤنوو نے بھی کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ دھمکیوں کی پالیسی ترک نہیں کرتا، تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ “کام مکمل” کرے گا۔
سرمایہ کار اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ حالیہ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد یومیہ تیل اور ایل این جی سپلائی اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔
ادھر یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ڈرونز نے رات کے وقت روس کے نام نہاد “شیڈو فلیٹ” سے تعلق رکھنے والے آٹھ آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جو مبینہ طور پر پابندیوں سے بچتے ہوئے کریمیا کو ایندھن فراہم کر رہے تھے۔



