جنیوا میں پاکستان کا مؤثر سفارتی و ڈیجیٹل کردار، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ کی عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

اسلام آباد / جنیوا: ایم این این

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے جنیوا میں عالمی سطح پر پاکستان کے ڈیجیٹل وژن اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مؤقف کو بھرپور انداز میں پیش کرتے ہوئے اہم بین الاقوامی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور “گلوبل ڈائیلاگ آن آرٹیفیشل انٹیلیجنس گورننس” کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کیا۔

جنیوا میں اپنی سفارتی مصروفیات کے دوران وفاقی وزیر نے برطانیہ کی رکن پارلیمنٹ (MP) سیما ملہوترا سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ، استعداد کار میں اضافے اور افرادی قوت کے تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ اقدامات دونوں ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بارباڈوس کے وزیر برائے انوویشن، انڈسٹری، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، سینیٹر جوناتھن ریڈ سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر سائنس، ٹیکنالوجی، انوویشن، ڈیجیٹل معیشت، تحقیق، مہارتوں کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے ترقی پذیر ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کے میدان میں شراکت داری بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

بعد ازاں وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے “گلوبل ڈائیلاگ آن آرٹیفیشل انٹیلیجنس گورننس” کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد اس وقت تک حقیقی معنوں میں عالمی سطح پر حاصل نہیں ہو سکتے جب تک دنیا ڈیجیٹل صلاحیتوں کے بڑھتے ہوئے فرق کو ختم نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت کے مستقبل میں برابر کا شریک بنانے کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اے آئی ٹیلنٹ، مشترکہ کمپیوٹنگ وسائل، اوپن سورس ماڈلز اور مؤثر بین الاقوامی تعاون میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی عالمی گورننس اقوام متحدہ کے تحت کثیرالجہتی تعاون پر مبنی ہونی چاہیے، جہاں ہر ملک کی قومی ترجیحات، ثقافتی اقدار اور ترقیاتی ضروریات کا مکمل احترام کیا جائے۔ ان کے مطابق شمولیت کا مطلب صرف عالمی فورمز میں موجودگی نہیں بلکہ مستقبل کے عالمی قواعد و ضوابط کی تشکیل میں مساوی کردار بھی ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کی نیشنل اے آئی پالیسی اور زیرِ تیاری نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسی پالیسیوں پر کام کر رہا ہے جو شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں شفافیت، انصاف، جوابدہی، تحفظ اور انسانی نگرانی کو یقینی بنائیں گی، جبکہ جدت طرازی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی فراہم کریں گی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسا مصنوعی ذہانت کا ماحولیاتی نظام تشکیل دینے کے لیے پُرعزم ہے جو سب کے لیے کھلا، قابلِ اعتماد، محفوظ اور قابلِ رسائی ہو۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا: “اوپن فورم اور تعاون کے بغیر انصاف ممکن نہیں، انصاف کے بغیر اعتماد قائم نہیں ہو سکتا، اور اعتماد کے بغیر مصنوعی ذہانت کی مؤثر عالمی گورننس ممکن نہیں ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں