اے ڈی بی نے پاکستان کی معاشی ترقی کا ہدف 3.7 فیصد برقرار رکھا، مہنگائی 8.3 فیصد رہنے کی پیش گوئی

اسلام آباد (ایم این این): ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو کی پیش گوئی 3.7 فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے مہنگائی 8.3 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے، جو حکومت کے اندازے سے قدرے زیادہ ہے۔

اے ڈی بی نے جمعرات کو جاری ہونے والی اپنی ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک (جولائی 2026) رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی نمو کے امکانات برقرار ہیں، تاہم عالمی اور علاقائی معاشی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اے ڈی بی نے ترقی پذیر ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے کی مجموعی معاشی ترقی کی پیش گوئی کم کرتے ہوئے اسے 2026 کے لیے 4.9 فیصد کر دیا ہے، جو 2025 میں 5.5 فیصد تھی اور اپریل کے تخمینے سے بھی 0.2 فیصد کم ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں طویل عرصے سے جاری رکاوٹوں نے خطے کی معیشتوں کو توقع سے زیادہ متاثر کیا ہے، جس سے مہنگائی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

اے ڈی بی کے مطابق جون میں ہونے والے فریم ورک معاہدے کے باوجود توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام بتدریج آئے گا، جبکہ توانائی، کھاد، دیگر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین کی مشکلات مہنگائی کے دباؤ کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔

رپورٹ میں خطے کی اوسط مہنگائی 2026 میں 4.3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ 2027 کے لیے 3.4 فیصد کا تخمینہ برقرار رکھا گیا ہے۔

اے ڈی بی کے چیف اکنامسٹ البرٹ پارک نے کہا کہ اگرچہ حالیہ فریم ورک معاہدے پر مؤثر عمل درآمد سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آ سکتا ہے، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور منفی خطرات بدستور موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ایشیائی معیشتیں مجموعی طور پر مضبوط ہیں، لیکن پالیسی سازوں کو معاشی ترقی کے فروغ اور مہنگائی پر قابو پانے کے درمیان محتاط توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

اے ڈی بی نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھی تو توانائی کی قیمتوں، قرضوں کی لاگت، مالی خساروں اور بیرونی معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سخت عالمی مالیاتی حالات، تجارتی محصولات میں اضافہ، پالیسی غیر یقینی صورتحال اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سرمایہ کاری، زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چین کی معاشی ترقی کی پیش گوئی 2026 کے لیے 4.6 فیصد اور 2027 کے لیے 4.5 فیصد برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ بھارت کی شرح نمو کا تخمینہ بڑھتی ہوئی توانائی لاگت کے باعث کم کر کے 6.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔ تاہم 2027 کے لیے 7.3 فیصد کا تخمینہ برقرار رکھا گیا ہے۔

اسی طرح جنوب مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کی معیشتوں کے لیے بھی ترقی کی پیش گوئیاں کم کر دی گئی ہیں، جس کی وجوہات کمزور اندرونی طلب، سیاحت میں سست روی، مہنگائی اور درآمدی اخراجات میں اضافہ بتائی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں