امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی، نئے دھماکے، میزائل حملے اور جنگی دھمکیاں

مشہد/واشنگٹن/تہران (ایم این این): امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ جنوبی ایران میں متعدد دھماکوں، امریکی اور ایرانی فوجی کارروائیوں، اسرائیلی دھمکیوں اور نئی میزائل کارروائیوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بوشہر، چوغادک، بندر عباس، چاہ بہار اور آبنائے ہرمز کے قریب دیگر علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بعض فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم نقصانات اور جانی نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

دھماکوں کے بعد نئی امریکی فضائی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم ایک امریکی عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی فوج نے ایران میں کوئی نئی فضائی کارروائی نہیں کی۔ اس بیان کے بعد دھماکوں کی اصل نوعیت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) تصدیق کر چکی ہے کہ امریکی فورسز نے ایران میں میزائل لانچنگ سائٹس، فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات اور آبنائے ہرمز میں بحری کارروائیوں سے متعلق متعدد اہداف پر حملے کیے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی بحری جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئیں۔

دوسری جانب اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے اعلان کیا کہ اس نے اردن میں واقع الازرق فضائی اڈے پر 10 بیلسٹک میزائل داغے، جسے ایران نے امریکی فوج کا اہم کمانڈ سینٹر قرار دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں “دوسرے مرحلے” کا حصہ تھا۔

تاہم اردن نے تاحال ان حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کی سرکاری تصدیق نہیں کی جبکہ ایرانی دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایرانی عدالتی خبر رساں ادارے کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں آئی آر جی سی کے تین اہلکار ہلاک ہوئے جنہیں سرکاری طور پر شہید قرار دیا گیا۔

ادھر ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا کہ امریکی طیاروں نے شمالی ایران میں ایک اہم ریلوے پل کو بھی نشانہ بنایا، جو ایران کو چین اور روس سے ملانے والے اہم زمینی تجارتی راستے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو اس کے علاقائی تجارت اور لاجسٹکس پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واشنگٹن کو مزید فوجی “مہم جوئی” سے باز رہنے کی سخت وارننگ دی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر مزید حملے کیے گئے تو تہران اس سے بھی زیادہ سخت جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اس سے پورے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل ایران پر پہلے سے زیادہ طاقتور حملے کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک عبوری فریم ورک طے پایا تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں، امریکی فضائی کارروائیوں اور ایرانی جوابی میزائل حملوں کے بعد وہ معاہدہ تقریباً غیر مؤثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

آبنائے ہرمز بدستور اس تنازع کا مرکزی محور بنی ہوئی ہے۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر مزید حملے ہوئے تو عالمی تجارت کے اس اہم بحری راستے پر آمدورفت مزید محدود کی جا سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں