آبنائے ہرمز میں پھنسا جہاز ایرانی “شیڈو فلیٹ” سے منسلک ہونے کا دعویٰ، عالمی پابندیوں کے شکار نیٹ ورک پر نئے سوالات

اسلام آباد/تہران (ایم این این): آبنائے ہرمز میں مبینہ طور پر پھنسنے والے ایک تجارتی جہاز کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں سمندری نگرانی کرنے والے ادارے ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ جہاز حالیہ دنوں میں نہیں بلکہ گزشتہ مارچ سے اسی مقام پر موجود ہے اور اس کا تعلق مبینہ طور پر ایرانی تیل کے تاجر محمد حسین شمخانی کے زیر انتظام شپنگ نیٹ ورک سے ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ جہاز امریکی تجویز کردہ بحری راستہ اختیار کرنے کے بعد آبنائے ہرمز میں پھنس گیا، تاہم ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ کام نے سیٹلائٹ ڈیٹا کی بنیاد پر اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ “اریسٹا” (Arista) نامی جہاز کئی ماہ سے اسی مقام پر موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق کوموروس کے پرچم تلے رجسٹرڈ یہ جہاز مبینہ طور پر ایسے بحری نیٹ ورک کا حصہ ہے جسے ایرانی تیل کے تاجر محمد حسین شمخانی چلاتے ہیں۔ ان پر امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ کی جانب سے ایرانی اور روسی تیل کی تجارت میں مبینہ کردار کے باعث پابندیاں عائد ہیں۔

محمد حسین شمخانی مرحوم علی شمخانی کے صاحبزادے ہیں، جو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری رہ چکے تھے اور بعد ازاں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر تھے۔ رپورٹس کے مطابق علی شمخانی 28 فروری کو تہران پر ہونے والے ابتدائی اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی محکمہ خزانہ کا الزام ہے کہ محمد حسین شمخانی ایک اربوں ڈالر مالیت کے ایسے نیٹ ورک کی نگرانی کرتے ہیں جو فرضی کمپنیوں، جعلی شپنگ دستاویزات اور پیچیدہ مالیاتی نظام کے ذریعے ایرانی اور روسی خام تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچاتا ہے جبکہ اس کی اصل شناخت چھپائی جاتی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک میں دورانِ سفر مختلف جہازوں کے درمیان تیل منتقل کیا جاتا ہے، شپنگ ریکارڈ تبدیل کیے جاتے ہیں اور ادائیگیوں کے لیے مختلف فرنٹ کمپنیوں اور سرمایہ کاری فنڈز کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مالی لین دین کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔

یورپی کمیشن کا بھی الزام ہے کہ شمخانی کی کمپنی میلاووس گروپ لمیٹڈ ایرانی اور روسی خام تیل کو مختلف پیٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ملا کر نئی شناخت کے ساتھ برآمد کرتی ہے تاکہ اس کی اصل کو چھپایا جا سکے۔

تاحال محمد حسین شمخانی یا ان کے نمائندوں کی جانب سے ان الزامات پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مارچ میں آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پراجیکٹ (OCCRP) نے دعویٰ کیا تھا کہ محمد حسین شمخانی اور ان کے بھائی نے فرضی شناختوں اور کیریبین ممالک کے سرمایہ کاری کے ذریعے حاصل کردہ پاسپورٹس استعمال کرتے ہوئے دبئی میں تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر مالیت کی جائیدادیں حاصل کیں۔

امریکہ نے گزشتہ سال جولائی میں پہلی مرتبہ شمخانی پر پابندیاں عائد کیں، جبکہ رواں سال اپریل میں ان کے نیٹ ورک، وابستہ کمپنیوں اور بحری جہازوں پر مزید پابندیاں نافذ کی گئیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ ان پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت سے وابستہ بااثر شخصیات کے مالی نیٹ ورک کو نشانہ بنانا ہے۔

یورپی یونین بھی محمد حسین شمخانی کو روس کے مبینہ “شیڈو فلیٹ” کا اہم کردار قرار دیتی ہے۔ مغربی ممالک کے مطابق یہ پرانے آئل ٹینکروں کا ایسا نیٹ ورک ہے جس کے ذریعے روس یوکرین جنگ کے بعد عائد مغربی پابندیوں سے بچتے ہوئے خام تیل برآمد کرتا ہے۔

برطانیہ نے بھی گزشتہ سال شمخانی پر اثاثے منجمد کرنے، سفری پابندی اور کمپنیوں میں ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دینے پر پابندی سمیت متعدد اقدامات کیے تھے۔

برطانوی حکومت کے مطابق یہ پابندیاں ایسے افراد اور اداروں کے خلاف ہیں جن پر ایران کی علاقائی سرگرمیوں کی معاونت اور بین الاقوامی تیل کی تجارت کے ذریعے مالی وسائل فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ عالمی خام تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں پیش آنے والا ہر بحری واقعہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں