تہران/اسلام آباد (ایم این این):
ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں طے شدہ بحری راستوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی نئے راستے کو اختیا کرنے کی کوشش مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا دے گی۔ یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں نے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی نازک جنگ بندی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بغداد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی منظوری کے بغیر کسی متبادل بحری راہداری کا قیام صورتحال کو مزید پیچیدہ بنائے گا، آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی میں تاخیر کا سبب بنے گا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرے گا۔
ان کا بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی فوج نے اتوار کی صبح ایران کے مختلف فوجی اہداف پر نئے فضائی حملے کیے۔ واشنگٹن کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی، جبکہ ایران نے اس کے ردعمل میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
تازہ جھڑپوں نے 18 جون کو پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے (MoU) کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور عالمی توانائی کی منڈیوں کو استحکام فراہم کرنا تھا۔
عباس عراقچی نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی شرائط کی مکمل پاسداری کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو سفارتی عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی معاہدہ خطے میں امن اور بحری تجارت کی بحالی کا واحد مؤثر راستہ ہے۔
انہوں نے خلیجی ممالک، ایران اور عراق پر مشتمل ایک نئے علاقائی سیکیورٹی نظام کے قیام کی تجویز بھی پیش کی، جس میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت نہ ہو۔ ان کے مطابق خطے کے مسائل کا پائیدار حل صرف علاقائی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
یہ تجویز ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے اس مؤقف سے بھی مطابقت رکھتی ہے جس میں انہوں نے حال ہی میں مشرق وسطیٰ کے لیے ایک جامع علاقائی سیکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دینے پر زور دیا تھا۔ ایران نے عراق کی جانب سے خلیجی ممالک، ایران اور عراق کے مشترکہ اجلاس کی تجویز کا بھی خیرمقدم کیا۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے اور غیر منظور شدہ راستہ استعمال کرنے والے جہازوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
آئی آر جی سی کے مطابق صرف ایران کے ساحلی علاقے سے گزرنے والا بحری راستہ ہی قابل قبول ہے، جبکہ عمان اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کی جانب سے متعارف کرائی گئی متبادل راہداری ایران سے مشاورت کے بغیر بنائی گئی ہے۔
اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کے تحت ایران نے 60 روز تک آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو بغیر کسی اضافی فیس کے محفوظ آمدورفت کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا فوجی کارروائی سے گریز کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔
تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ڈرون گوداموں، نگرانی کے مراکز، مواصلاتی نظام اور بحری بارودی سرنگوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر کیکو پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی، جو تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جا رہا تھا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے جنوبی شہر سیریک میں دھماکوں کی تصدیق کی، جبکہ آئی آر جی سی نے کہا کہ امریکی حملے ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت کو کمزور نہیں کر سکتے۔
بعد ازاں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی میزائل حملوں کا دعویٰ کیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق کویت کے علی السالم ایئربیس اور بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر سمیت کئی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
بحرین میں دو مرتبہ فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے، جبکہ حکام کے مطابق ایک میزائل حملے سے المحرق صوبے میں ایک رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بحرین نے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔
کویتی فوج نے بتایا کہ دو بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے اور کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔ امریکی حکام نے بھی تصدیق کی کہ ان کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم امریکی اہلکار محفوظ رہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع کرنے پر امریکہ مجبور ہوا تو ایران کے لیے اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سفارتی حل چاہتا ہے، لیکن مزید حملوں کی صورت میں بھرپور فوجی کارروائی کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔ اگر دونوں ممالک نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی، بحری تجارت اور بین الاقوامی امن بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔



