امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک ڈالر میں مستقل امریکی سفارت خانے کے لیے ویسٹ یروشلم میں زمین لیز پر دینے کا معاہدہ

واشنگٹن/یروشلم (ایم این این): امریکہ اور اسرائیل نے ویسٹ یروشلم میں مستقل امریکی سفارت خانے کی تعمیر کے لیے 99 سالہ لیز معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت امریکہ اس زمین کے عوض صرف ایک امریکی ڈالر ادا کرے گا۔

معاہدے پر اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی اور اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سعار نے یروشلم کے میئر موشے لیون کی موجودگی میں دستخط کیے۔ سفارت خانے کے لیے ایلنبی کمپلیکس میں زمین مختص کی گئی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر نے ایک ڈالر کا نوٹ دکھاتے ہوئے کہا کہ یہی رقم 99 سالہ لیز معاہدے کے تحت امریکہ اسرائیل کو ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مستقل سفارت خانے کی تعمیر امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور دونوں ممالک کے مضبوط اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

امریکہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں 2018 میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا تھا، جس کے بعد سے سفارت خانہ عارضی عمارت سے کام کر رہا تھا جبکہ مستقل کمپلیکس کی منصوبہ بندی جاری تھی۔

اسرائیلی حکام نے اس معاہدے کو ایک تاریخی سفارتی اقدام قرار دیا، جس کے ذریعے ٹرمپ دور میں شروع ہونے والا عمل مکمل ہونے جا رہا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی حلقوں اور ناقدین نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دو ریاستی حل کی کوششوں کو مزید دھچکا پہنچ سکتا ہے، کیونکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سفارت خانے کے لیے مختص کی گئی زمین ماضی میں فلسطینیوں کی ملکیت تھی، جس کے باعث یہ معاہدہ مزید تنازع کا باعث بن گیا ہے۔

یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور علاقائی کشیدگی کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں مزید مضبوطی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں