اسلام آباد (ایم این این): میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کا ریونیو سسٹم گزشتہ 10 روز سے غیر فعال ہے، جس کے باعث پراپرٹی ٹیکس اور دیگر بلوں کی آن لائن ادائیگی کا نظام بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سسٹم کی بندش کے باعث ایم سی آئی کا ریونیو ڈیپارٹمنٹ متاثر ہوا ہے اور شہری آن لائن ادائیگی کے بجائے نقد رقم جمع کروانے پر مجبور ہیں، جبکہ متعلقہ حکام نظام کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
ایم این این سے گفتگو کرتے ہوئے ایم سی آئی کے ڈائریکٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی شہزاد ملک نے ان خبروں کی تردید کی کہ ادارہ کسی بڑے سائبر حملے کا شکار ہوا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایم سی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بینک اکاؤنٹس یا مرکزی آئی ٹی سسٹم ہیک نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق مسئلہ سسٹم میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کا ہے، جسے جلد دور کر لیا جائے گا۔
شہزاد ملک نے بتایا کہ توقع ہے کہ ریونیو کا آن لائن نظام پیر تک دوبارہ فعال ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) کی جانب سے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ سسٹم میں پیدا ہونے والی خرابی کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
ڈائریکٹر آئی ٹی نے ان اطلاعات کو بھی مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نامعلوم ہیکرز نے تقریباً 250 بٹ کوائن، یعنی چار ارب روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی بطور تاوان طلب کی ہے۔ ان کے مطابق ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں اور نہ ہی کسی قسم کے تاوان یا ہیکرز سے مذاکرات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک ہفتہ قبل بین الاقوامی ہیکرز نے ایم سی آئی کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے اکاؤنٹس ہیک کر لیے تھے، جس کے باعث ادائیگیوں کا نظام شدید متاثر ہوا اور ریونیو وصولی میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اعلیٰ حکام مبینہ ہیکرز سے رابطے میں ہیں۔
تاہم ایم سی آئی حکام نے ان تمام دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ معاملہ ہیکنگ کا نہیں بلکہ تکنیکی خرابی کا ہے۔
دریں اثنا ایم این این نے ایم سی آئی کی چیف آفیسر ڈاکٹر انعم فاطمہ سے بھی مؤقف لینے کی کوشش کی، تاہم ان سے رابطہ نہ ہو سکا، جبکہ ڈائریکٹر جنرل نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
ریونیو سسٹم کی طویل بندش نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ آن لائن ادائیگیوں کا نظام جلد از جلد بحال کیا جائے اور خرابی کی اصل وجوہات سے متعلق مکمل شفافیت اختیار کی جائے۔



