دوحہ (ایم این این): آبنائے ہرمز کے قریب چند گھنٹوں کے دوران تین تجارتی ٹینکرز، جن میں قطر کا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز بھی شامل ہے، حملوں کا نشانہ بن گئے۔ قطر نے اس واقعے پر ایران کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسے بین الاقوامی بحری سلامتی پر “ناقابل قبول حملہ” قرار دیا ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق رات گئے ایک نامعلوم میزائل یا گولہ ایک ٹینکر سے ٹکرایا، جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ بعد ازاں مزید دو جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے کم از کم ایک پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ تمام حملے عمان کے ساحلی پانیوں کے قریب پیش آئے۔
یہ واقعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونا شروع ہوئی تھی۔ تازہ حملوں نے دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ کی سلامتی پر ایک بار پھر سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
قطر نے تصدیق کی کہ نشانہ بننے والے جہازوں میں اس کا ایل این جی بردار جہاز الرقیات بھی شامل تھا۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی سلامتی پر ناقابل قبول حملہ ہے۔
انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے تمام اقدامات فوری طور پر بند کرے جو خطے کے امن، استحکام اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ماجد الانصاری نے کہا، “ہم اس حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصانات اور اثرات کی مکمل قانونی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہیں۔”
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد جنگ بندی برقرار ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز کا مستقبل اب بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات کا سب سے حساس اور متنازع معاملہ بنا ہوا ہے۔
کنگز کالج لندن کے سکیورٹی ماہر آندریاس کریگ کے مطابق ایران واضح پیغام دے رہا ہے کہ اس کی منظوری کے بغیر متبادل بحری راستے قبول نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جہاز ایرانی حکام کے ساتھ رجسٹریشن کے بغیر عمان کے مجوزہ بحری راہداری سے گزرنے کی کوشش کریں گے تو انہیں نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں، جبکہ یہ کارروائیاں جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون دونوں کی خلاف ورزی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے ایکسیوس نے دو امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے تجارتی جہازوں پر کم از کم دو میزائل داغے، تاہم پینٹاگون نے اس بارے میں فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونا شروع ہوئی تھی، تاہم ایران واضح کر چکا ہے کہ جنگ سے پہلے والی مکمل آزادانہ نقل و حرکت کا نظام بحال نہیں ہوگا۔
14 نکاتی امریکہ۔ایران مفاہمتی معاہدے کے تحت ایران، عمان اور دیگر خلیجی ممالک آبنائے ہرمز کے انتظام اور بحری خدمات کے مستقبل کے حوالے سے مذاکرات جاری رکھیں گے، جبکہ قطر بھی جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔



