کوئٹہ (ایم این این): بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی سرحد کے قریب جمعہ کے روز ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم 40 افراد جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہوگئے۔
حادثہ اس وقت پیش آیا جب بس بلوچستان کے ضلع شیرانی کے علاقے دھنسار سے روانہ ہو کر خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود میں داخل ہوئی۔
ہلاکتوں کی ابتدائی تصدیق وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے کی، جسے بعد ازاں خیبرپختونخوا ریسکیو 1122 نے بھی تصدیق کر دی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ٹیموں اور متعلقہ اداروں نے مشترکہ طور پر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع ملتے ہی ژوب ایمرجنسی سروسز اور دیگر امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال ژوب منتقل کیا گیا، جبکہ جاں بحق افراد کی میتیں ابتدائی طور پر قریبی دیہی مرکز صحت لے جائی گئیں، بعد ازاں انہیں ڈی ایچ کیو اسپتال ژوب منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق بس میں مجموعی طور پر 48 افراد سوار تھے۔ بس تقریباً 70 سے 80 فٹ گہری کھائی میں جا گری۔ دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث ابتدائی امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی ولی خان کاکڑ نے بتایا کہ بس کوئٹہ سے 36 مسافروں کے ساتھ روانہ ہوئی تھی، تاہم راستے میں خراب ہونے والی ایک دوسری بس کے مسافروں کو بھی اس میں سوار کر لیا گیا، جس کے باعث بس اپنی گنجائش سے زیادہ بھر گئی۔
شاہد رند نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بعد ازاں تحقیقات کی ذمہ داری صوبائی سیکریٹری ٹرانسپورٹ کے سپرد کرتے ہوئے جامع رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات اور ٹرانسپورٹ نظام میں ضروری اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔
صدر آصف علی زرداری نے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرین کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے، زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے، بلوچستان کی امدادی ٹیموں سے مکمل تعاون جاری رکھنے، خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے متاثرین کی شناخت یقینی بنانے اور ان کے اہل خانہ سے فوری رابطہ کروانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جاں بحق افراد کی میتیں مکمل احترام کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں تک پہنچانے کا بھی حکم دیا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی ہدایت کی۔
یہ افسوسناک واقعہ حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے مہلک ٹریفک حادثات کی کڑی ہے۔ اس سے قبل لوئر دیر اور اپر چترال میں بھی گاڑیاں گہری کھائیوں میں گرنے کے باعث متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔



