دوحہ مذاکرات: ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست ملاقات نہ ہوئی، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت جاری

واشنگٹن/دوحہ (ایم این این): قطر اور پاکستان کی ثالثی میں دوحہ میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے بالواسطہ مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے، تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس دوران ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان کوئی براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے مذاکرات کے بعد بتایا کہ ایرانی وفد نے صرف قطری اور پاکستانی وفود سے سہ فریقی ملاقاتیں کیں، جبکہ امریکی نمائندوں کے ساتھ کسی بھی سطح پر براہِ راست مذاکرات نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاسوں میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عملدرآمد، خصوصاً لبنان، آبنائے ہرمز اور ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

غریب آبادی کے مطابق مذاکرات کا مقصد حتمی معاہدے پر بات چیت نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ مفاہمت پر عملدرآمد کو آگے بڑھانا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ فریقین نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور ان پر تبادلہ خیال کے لیے ایک مشترکہ رابطہ نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے چھ ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کا ایک حصہ ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مذاکرات کو “انتہائی کامیاب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتی ہے، تاہم اگر ایران نے دوبارہ جوہری سرگرمیاں بڑھائیں یا خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی تو امریکہ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی وفد دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے بالخصوص آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق امور پر بات کر رہا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہوئے اور ان کا مقصد گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو آگے بڑھانا تھا۔

امریکی نمائندے جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف نے تکنیکی مذاکرات میں حصہ نہیں لیا بلکہ قطر کی قیادت سے ملاقات کر کے ایران امریکہ مذاکرات اور لبنان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، جو پاکستان اور قطر کی ثالثی سے طے پائی، میں 60 روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، کشیدگی میں کمی اور ایران کے جوہری پروگرام پر آئندہ جامع مذاکرات کا فریم ورک شامل ہے۔

ایران نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدے پر باضابطہ مذاکرات ابھی شروع نہیں ہوئے، اگرچہ عملدرآمد کے لیے ورکنگ گروپس قائم کر دیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک عوامی سطح پر مختلف مؤقف اختیار کر رہے ہیں، تاہم حالیہ فوجی کشیدگی کے باوجود مذاکرات کا تسلسل ایک مثبت پیش رفت ہے۔

ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد کے دوران اختلافات اور مشکلات فطری ہیں، تاہم ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا اور امریکہ سے بھی اسی طرز عمل کی توقع رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی پابندیاں ختم ہونے کے بعد ایران نے چار کروڑ بیرل سے زائد تیل برآمد کیا ہے، جو گزشتہ دو ماہ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

حکام کے مطابق دوحہ میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عملدرآمد اور مستقبل میں ایک جامع امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی اہم کوشش سمجھے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں