سی ڈی اے کا اسلام آباد ہائی کورٹ لیگل فیسیلیٹیشن سینٹر منصوبے کا فرانزک آڈٹ کرانے کا مطالبہ

اسلام آباد (ایم این این): کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیگل فیسیلیٹیشن سینٹر منصوبے کا آزاد اور تیسرے فریق کے ذریعے فرانزک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے، جس کی وجہ منصوبے کی بڑھتی لاگت، اضافی کاموں اور مالی شفافیت سے متعلق خدشات بتائے گئے ہیں۔

یہ اقدام اسلام آباد ہائی کورٹ کی مرکزی عمارت کی تعمیر پر اٹھنے والے سوالات کے بعد سامنے آیا ہے۔ 11 ارب روپے سے زائد لاگت سے تعمیر ہونے والی اس عمارت کو خراب لفٹوں، غیر مؤثر کولنگ سسٹم اور مبینہ ناقص تعمیراتی معیار پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔

سرکاری دستاویزات اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر توہین عدالت کی درخواست کے مطابق، سی ڈی اے نے دستور ایونیو پر زیر تعمیر لیگل فیسیلیٹیشن سینٹر کے منصوبے پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سی ڈی اے نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ منصوبے میں مکمل ہونے والے کام، پیمائشوں اور اضافی مقدار کے دعوؤں کی جانچ کے لیے کسی آزاد تکنیکی ادارے، ترجیحاً نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک)، کو فرانزک آڈٹ کی ذمہ داری سونپی جائے تاکہ مزید ادائیگیوں سے قبل تمام معاملات کی غیر جانبدارانہ تصدیق کی جا سکے۔

یہ منصوبہ ابتدا میں پاکستان پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) کے سپرد تھا، تاہم اگست 2024 میں وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بعد اسے سی ڈی اے کے حوالے کر دیا گیا۔

منصوبے کی ابتدائی لاگت ایک ارب 44 کروڑ 60 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی، جو مختلف ترامیم اور منظوریوں کے بعد بڑھ کر دو ارب سات کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

سی ڈی اے نے تقریباً 49 کروڑ 20 لاکھ روپے کی اضافی مقدار کے دعوؤں پر بھی اعتراض اٹھایا ہے، جبکہ ٹھیکیدار کی جانب سے 31 کروڑ 30 لاکھ روپے کا رننگ بل پہلے ہی جمع کرایا جا چکا ہے، حالانکہ اضافی کام کی باضابطہ منظوری ابھی باقی ہے۔

دستاویزات کے مطابق، اس منصوبے میں بھی وہی نوعیت کے مسائل سامنے آ رہے ہیں جو اسلام آباد ہائی کورٹ کی مرکزی عمارت کی تعمیر کے دوران رپورٹ ہوئے تھے، جہاں منصوبہ بندی اور مالی نگرانی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مرکزی عدالتی عمارت کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ تقریباً ایک ارب روپے کی ادائیگیاں بغیر مکمل پیمائشی ریکارڈ کے کی گئیں اور عمارت کے نظرثانی شدہ نقشے کی سی ڈی اے سے باقاعدہ منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق لیگل فیسیلیٹیشن سینٹر کے ٹھیکیدار پر ماضی میں بھی مبینہ جعلی اسناد کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے، جبکہ موجودہ منصوبے میں بھی اصل بل آف کوانٹیٹیز سے تجاوز کیے جانے کے باعث شفافیت اور مالی ضابطوں پر نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں سی ڈی اے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹھیکیدار اور پاکستان پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے بعض اقدامات، خصوصاً اضافی مقدار اور زیر التوا منظوریوں کے حوالے سے، ایسے شکوک پیدا کرتے ہیں جن کی آزاد اور غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔

دو ارب روپے سے زائد لاگت اور دسمبر 2026 تک نئی تکمیل کی مدت کے پیش نظر، سی ڈی اے نے عدالت سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی سرمایہ کے تحفظ اور مستقبل کے قانونی تنازعات سے بچنے کے لیے فرانزک آڈٹ ناگزیر ہے۔

عدالت سے توقع ہے کہ وہ جلد اس معاملے کی سماعت کرے گی، جہاں آزادانہ آڈٹ کی رپورٹ منصوبے میں ممکنہ بے ضابطگیوں سے متعلق اہم حقائق سامنے لا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں