تہران/اسلام آباد (ایم این این): وزیراعظم شہباز شریف آج (3 جولائی) ایران اور ترکیہ کے تین روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ اپنے دورے کا آغاز تہران سے کریں گے اور ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایرانی قیادت، حکومت اور عوام سے تعزیت اور اظہارِ یکجہتی کے لیے تہران جائیں گے۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام بھی موجود ہوں گے۔ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کریں گے اور اس مشکل وقت میں پاکستان کی جانب سے مکمل حمایت اور یکجہتی کا پیغام دیں گے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی کو تہران سے ہوگا۔ اس کے بعد مختلف مذہبی اور قومی تقریبات مقدس شہر قم میں منعقد کی جائیں گی، جبکہ تدفین 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں حضرت امام رضاؑ کے روضہ مبارک کے احاطے کے قریب کی جائے گی۔ حکام نے ان تقریبات کے لیے ایک ہفتے کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی حکومت نے آخری رسومات کے دوران غیرمعمولی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ تہران، قم اور مشہد میں سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ فضائی نگرانی بھی سخت کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، اسی لیے جلوسوں اور سرکاری تقریبات کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو بھی سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ آخری رسومات کے دوران کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا اشتعال انگیزی سے گریز کیا جائے۔ ایرانی عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس حساس موقع پر کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ایران میں سیاسی انتقالِ اقتدار کا عمل مکمل کیا گیا اور ان کے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔ گزشتہ کئی ماہ سے جنگی صورتحال اور سکیورٹی خدشات کے باعث سرکاری آخری رسومات مؤخر کر دی گئی تھیں، جن کا آغاز اب جولائی میں کیا جا رہا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای تقریباً 36 برس تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ ان کے دورِ قیادت میں ایران کی خارجہ پالیسی، دفاعی حکمت عملی، جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ میں نمایاں تبدیلیاں آئیں، جس کے باعث وہ مشرق وسطیٰ کی سیاست کی اہم ترین شخصیات میں شمار کیے جاتے تھے۔
آخری رسومات میں دنیا بھر سے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت متوقع ہے۔ چین نے اعلان کیا ہے کہ صدر شی جن پنگ کے خصوصی نمائندے اور نیشنل پیپلز کانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے نائب چیئرمین ہی وی تقریب میں شرکت کریں گے۔ بھارت بھی وزیر مملکت پبیترا مارگریٹا اور بہار کے گورنر سید عطا حسنین پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد تہران بھیج رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق 30 سے زائد ممالک کے سرکاری وفود اور 90 سے زیادہ ممالک کے مذہبی رہنما بھی ان تقریبات میں شریک ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ایران آمد کو دونوں برادر ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات، خطے کی سکیورٹی صورتحال، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
ایران کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ روانہ ہوں گے جہاں وہ صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی اور علاقائی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بات چیت کریں گے۔
پاکستانی حکام کے مطابق ایران اور ترکیہ کے یہ دورے نہ صرف دونوں دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ موجودہ علاقائی صورتحال میں سفارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کی کوششوں کا بھی حصہ ہیں۔



