تہران/واشنگٹن/اسلام آباد (ایم این این): مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران نے اتوار کو بحرین اور کویت کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جبکہ خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے تو جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات مکمل طور پر معطل کر دیے جائیں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ حملے امریکہ کی جانب سے ایرانی فوجی تنصیبات پر کیے گئے نئے فضائی حملوں کا براہِ راست جواب ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن کی عسکری کارروائیاں سفارتی عمل کو سبوتاژ کر رہی ہیں اور اگر امریکی حملے نہ رکے تو مذاکرات جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور ان سے وابستہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اس کی کارروائیوں کی قیمت چکانا ہوگی اور خطے میں اس کی فوجی موجودگی مزید عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔
دوسری جانب بحرین اور کویت کی حکومتوں نے تصدیق کی کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔ حکام کے مطابق بیشتر حملے ناکام بنا دیے گئے، تاہم بعض مقامات پر تباہ شدہ میزائلوں کا ملبہ گرنے سے معمولی نقصان پہنچا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جبکہ متعلقہ ادارے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
بحرین اور کویت دونوں خلیجی ممالک میں امریکہ کے اہم فوجی اڈے موجود ہیں، جہاں ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایران نے ان ممالک کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے اہم لاجسٹک مراکز سمجھے جاتے ہیں۔
امریکہ نے حالیہ فضائی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کارروائیاں ایران کی جانب سے بحیرۂ عرب اور آبنائے ہرمز میں مبینہ خطرات، ڈرون حملوں اور بحری جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنا اور بین الاقوامی بحری تجارت کو محفوظ بنانا ہے۔
ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن خطے میں کشیدگی بڑھانے کا ذمہ دار ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جب تک امریکہ فوجی کارروائیاں بند نہیں کرتا، کسی بھی قسم کے بامعنی مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر امریکی حملے جاری رہے تو مذاکرات مکمل طور پر رک جائیں گے۔”
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی ثالث کئی ہفتوں سے جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے تھے۔ ان مذاکرات کا مقصد خلیجی خطے میں استحکام بحال کرنا، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا اور ایران و امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم کے خطرات کو کم کرنا تھا، تاہم تازہ فوجی کارروائیوں نے ان کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
خطے کے متعدد ممالک نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بحرین اور کویت نے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ دونوں ممالک میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ فضائی دفاعی نظام کو مزید فعال بنا دیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر بھی ان واقعات کے اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً ایک پانچویں تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی اور سمندری راستے متاثر ہوئے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوابی کارروائیوں کا سلسلہ ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک اپنی عسکری کارروائیوں کو دفاعی قرار دے رہے ہیں جبکہ ایک دوسرے پر کشیدگی بڑھانے اور سفارتی کوششوں کو ناکام بنانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران واقعی مذاکرات معطل کر دیتا ہے تو تنازع کے سفارتی حل کی امیدیں مزید کمزور ہو جائیں گی۔ ایسے حالات میں کسی بھی غلط اندازے یا محدود فوجی کارروائی کے وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کریں اور تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ تاہم موجودہ حالات میں خطہ شدید غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے اور آنے والے دن اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے۔



