کور کمانڈرز کانفرنس: پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ

راولپنڈی (ایم این این): پاکستان کی عسکری قیادت نے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے تحت ملک کے آبی حقوق کے ہر قیمت پر تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دہشت گردی، ہائبرڈ وارفیئر اور پراکسی کارروائیوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ عزم جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والی 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں ظاہر کیا گیا۔ اس حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اعلامیہ جاری کیا۔

سندھ طاس معاہدے پر واضح مؤقف

فورم نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بیانات اور اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کی ہدایات اور عوامی امنگوں کے مطابق پاکستان کے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔

ہائبرڈ وارفیئر پر تشویش

کور کمانڈرز نے کہا کہ مارکۂ حق کے بعد پاکستان کے خلاف بیرونی سرپرستی میں ہائبرڈ وارفیئر، پراپیگنڈا اور گمراہ کن معلومات کی مہمات میں اضافہ ہوا ہے، جن کا مقصد ملک میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

فورم نے ریاستی سرپرستی میں دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت اور پراکسی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف ہر قسم کی ہائبرڈ کارروائی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

علاقائی امن اور سفارتی کردار

علاقائی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے عسکری قیادت نے خطے میں امن، مذاکرات اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا، خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن کوششوں میں پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو اہم قرار دیا۔

فورم نے بین الاقوامی قوانین کے احترام، پرامن تنازعات کے حل اور علاقائی تعاون کے فروغ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

کشمیر پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کانفرنس نے بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششوں کی شدید مذمت کی۔

فورم نے واضح کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ملنے تک خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

آپریشن غَضَبُ اللّٰہِ الحق جاری رکھنے کا اعلان

کور کمانڈرز نے افغانستان کی سرزمین کے مبینہ استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جن تنظیموں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان قرار دیتا ہے، وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہی ہیں۔

فورم نے کہا کہ افغان طالبان انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، جبکہ پاکستان اپنے شہریوں کے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق آپریشن “غضبُ اللّٰہِ الحق” کے تحت دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) بلا تعطل جاری رہیں گے۔

عسکری قیادت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شورش زدہ علاقوں میں بہتر طرز حکمرانی، عوامی فلاح و بہبود اور ریاستی اداروں کی مؤثر موجودگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ کیا جا سکے۔

فوجی تیاریوں کا جائزہ

فورم نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں پاکستان کے امن، اتحاد اور استحکام کی بنیاد ہیں۔

کانفرنس میں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل تیاری اور جنگی استعداد پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

اختتامی خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈرز کو بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں کے مطابق عسکری اصلاحات کی رفتار تیز کرنے، اعلیٰ ترین سطح کی چوکسی برقرار رکھنے اور روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں