اسلام آباد (ایم این این): پاکستان کو مالی سال 2025-26 کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 41 ارب 60 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 8.6 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جمعرات کو جاری کیے۔
یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک مالی سال کے دوران موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کی سب سے بڑی رقم ہے، جس نے حکومت کے مقررہ ہدف کو بھی عبور کر لیا اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی شعبے کو نمایاں سہارا فراہم کیا۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اس کامیابی کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد، ملکی معیشت کی بہتری اور مضبوط معاشی بنیادوں کا مظہر ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ریکارڈ ترسیلاتِ زر نے پاکستان کے بیرونی مالیاتی شعبے کو مزید مستحکم کیا، زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دی اور معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔
خرم شہزاد نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ دنیا بھر میں محنت کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
حکومت نے ابتدا میں مالی سال کے لیے 41 ارب ڈالر ترسیلاتِ زر کا ہدف مقرر کیا تھا، جسے بعد میں 40 ارب ڈالر تک نظرثانی کی گئی، تاہم حقیقی وصولیاں دونوں اہداف سے زیادہ رہیں۔
اگرچہ مجموعی ترسیلاتِ زر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، تاہم ان کی سالانہ شرح نمو 8.6 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کی 26.6 فیصد اور اس سے قبل کے سال کی 10.7 فیصد شرح نمو سے کم ہے۔
ماہانہ بنیاد پر جون میں ترسیلاتِ زر میں 18.35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور مئی کے 4.25 ارب ڈالر کے ریکارڈ کے مقابلے میں جون میں 3.47 ارب ڈالر موصول ہوئے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جون کے دوران سعودی عرب سے سب سے زیادہ 829.6 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 792.3 ملین ڈالر کی ترسیلات آئیں۔
اسی عرصے میں برطانیہ سے 514.9 ملین ڈالر، امریکہ سے 296.8 ملین ڈالر، اٹلی سے 121.1 ملین ڈالر اور عمان سے 110.8 ملین ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔
یہ ریکارڈ ترسیلات ایسے وقت میں سامنے آئیں جب خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک میں روزگار اور ترسیلاتِ زر متاثر ہو سکتی ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی 2024 کی ایک تحقیق کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی اس وقت زیادہ رقوم وطن بھیجتے ہیں جب پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر ہو رہی ہو، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی معاشی اعتماد اور ترسیلاتِ زر کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں بینکوں کو ترسیلاتِ زر بڑھانے پر دی جانے والی دو مراعاتی اسکیمیں ختم کر دی ہیں، کیونکہ یہ پروگرام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔
اگرچہ بینکاری شعبے نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بینکوں کی مجموعی منافع بخش کارکردگی پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔



