حوثیوں کا سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

دوحہ/تہران/واشنگٹن (ایم این این): یمن کے حوثی باغیوں نے پیر کے روز سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے خطے میں جاری امریکا۔ایران جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ اس اعلان سے نہ صرف خلیجی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بحری تجارت کے مستقبل پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے خلاف “آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی کے تحت فوری طور پر بحری پابندیاں نافذ کی جا رہی ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس ناکہ بندی پر عملی طور پر کیسے عمل درآمد کیا جائے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ شدت اختیار کر چکی ہے اور دونوں ممالک آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے سرگرم ہیں۔

گزشتہ ہفتے کئی برس بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ایک بار پھر حملوں کا تبادلہ ہوا، جس سے 2022 کی جنگ بندی بھی خطرے میں پڑ گئی۔ کشیدگی اس وقت بڑھی جب ایک ایرانی طیارے نے صنعا میں لینڈنگ کی کوشش کی، جسے سعودی عرب نے اپنے فضائی اثرورسوخ کے لیے چیلنج قرار دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حوثیوں نے واقعی بحری ناکہ بندی نافذ کر دی تو سعودی عرب کی بحیرہ احمر کے راستے تیل برآمد کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً ینبع بندرگاہ جو آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث سعودی برآمدات کے لیے انتہائی اہم راستہ بن چکی ہے۔

سعودی عرب روزانہ ایک کروڑ بیرل سے زائد خام تیل پیدا کرتا ہے، اس لیے اس کی برآمدات میں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی توانائی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے بھی اس پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں متاثر ہوئے تو اس کے نتائج پوری دنیا کی معیشت اور بحری تجارت کے لیے انتہائی خطرناک ہوں گے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اس وقت امریکا کے ساتھ “مکمل جنگ” میں داخل ہو چکا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکا نے پیر کے روز ایران کے مختلف صوبوں میں متعدد حملے کیے جن میں بوشہر بھی شامل ہے، جہاں ایران کا واحد فعال سول جوہری بجلی گھر واقع ہے۔ بوشہر کے گورنر نے متعدد مقامات پر امریکی حملوں کی تصدیق کی۔

مشرقی آذربائیجان صوبے میں بھی ایک شخص کے جاں بحق اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اس کے جواب میں ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شام، اردن اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق شام کے التنف علاقے، اردن کے عقبہ ایئرپورٹ اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کیے گئے۔

کویت کی فوج نے تصدیق کی کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرون حملوں کا مقابلہ کیا، جبکہ بحرین نے فضائی خطرے کے سائرن بجا کر شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی۔

بحری محاذ پر بھی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

برطانوی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک جہاز حملے کے بعد آگ لگنے پر عملے نے اسے چھوڑ دیا، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ دو آئل ٹینکر دھماکوں کے بعد ناکارہ بنا دیے گئے۔

شدید جنگی صورتحال کے باوجود سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ثالث ممالک کے ذریعے امریکا کے ساتھ بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے، تاہم ساتھ ہی سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھنے کا بھی عندیہ دیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی فضائی کارروائیاں مکمل کیں۔

حالیہ جھڑپوں میں امریکا نے مزید تین فوجیوں کی ہلاکت اور ایک اہلکار کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ادھر ایران کی وزارت صحت کے مطابق حالیہ حملوں میں کم از کم 50 افراد جاں بحق جبکہ 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

خطے میں جنگ کے دائرہ کار کے مسلسل پھیلنے، اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات اور عالمی توانائی کی سپلائی پر بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث بین الاقوامی مبصرین مشرق وسطیٰ کو ایک نئے اور وسیع تر بحران کے دہانے پر قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں