تہران/واشنگٹن (ایم این این)؛ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق نقشوں اور انتظامات پر اتفاق کر لیا ہے، جبکہ تہران نے اس اہم آبی گزرگاہ کے قریب ایک نیا محدود بحری علاقہ قائم کرنے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان آئندہ چند روز میں جہازوں کی آمدورفت کے نئے انتظامات سے متعلق باقاعدہ معاہدے پر دستخط کریں گے۔
محسن رضائی کے مطابق ایران آئندہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک نئے محدود علاقے کا بھی اعلان کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ ایران کے مطابق امریکی ناکہ بندی کی لائن سے خلیج کی جانب تک پھیلا ہوگا۔
رضائی نے خبردار کیا کہ نئے انتظامات کے تحت اس محدود علاقے میں داخل ہونے والے کسی بھی بحری جہاز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ ثالثوں کی درخواست پر ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط طے کر رہا ہے۔
ان کے مطابق وسیع علاقائی جنگ کا خاتمہ بھی ان شرائط میں شامل ہے۔
دوسری جانب اہم آبی گزرگاہ سے بحری آمدورفت جاری ہے۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 59 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔
برطانوی میری ٹائم ادارے نے اس اہم بحری گزرگاہ پر خطرے کی سطح کو “انتہائی شدید” قرار دیا ہے، جس سے خطے میں بڑھتی ہوئی بحری سکیورٹی کی تشویش ظاہر ہوتی ہے۔
ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کے باعث ملکی معیشت کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گا۔
دریں اثنا، ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی سلامتی یا قومی مفادات پر مستقبل میں ہونے والے کسی بھی حملے کا فوری اور زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں قالیباف نے کہا کہ امریکا کو سمجھ لینا چاہیے کہ ایران کے خلاف جنگ میں “قواعدِ کھیل تبدیل ہو چکے ہیں”۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے مفادات اور سلامتی پر کسی بھی حملے کا پہلے سے زیادہ تیز، سخت اور تکلیف دہ جواب دیا جائے گا۔
قالیباف کے مطابق امریکا کو اس صورتحال کی تبدیلی کو بہت دیر ہونے سے پہلے سمجھ لینا چاہیے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں ایک مبینہ واقعے کے حوالے سے ایران اور امریکا کے درمیان متضاد دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فورسز نے ایک بغیر عملے والے امریکی بحری ڈرون کو نشانہ بنایا، جو مبینہ طور پر تہران کی جانب سے محدود قرار دیے گئے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ایرانی دعوے کو مکمل طور پر جھوٹ قرار دیا۔
امریکا کی جانب سے یہ تردید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن نے کہا تھا کہ اس کی فورسز نے امریکی بحری جہازوں پر مبینہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا تھا۔
ان تازہ پیش رفتوں نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران ایک دوسرے پر الزامات اور سخت انتباہات کا سلسلہ جاری ہے۔



