اقتدار کی دہلیز پر بھٹکتے غیر عوامی سیاسی مسافر

تحریر: جمیل قاسم

الیکشن کا موسم قریب آتے ہی سیاست کے افق پر وہی پرانے مسافر نمودار ہونے لگتے ہیں جن کا کوئی مستقل سیاسی گھر، کوئی نظریاتی آستانہ اور کوئی عوامی وابستگی نہیں ہوتی۔ یہ حضرات موسمِ اقتدار کے شناسا پرندے ہیں، ہوا کا رخ بدلتے ہی آشیانہ بدل لیتے ہیں۔ بلوچی زبان میں ایسے سیاسی مسافروں کے لیے “ہفت لوگی پشی” یعنی سات گھروں کی بلی کی نہایت معنی خیز اور طنزیہ تشبیہ مستعمل ہے، ایسی بلی جو کسی ایک آنگن کی وفادار نہیں ہوتی، جہاں دودھ کی خوشبو آئی، وہیں پنجے گاڑ دیئے۔ الیکشن کا موسم ذرا قریب آئے تو بلوچستان کے سیاسی افق پر بھی یہی ہفت لوگی پشی نمودار ہونے لگتی ہیں، کبھی ایک دروازے پر میاؤں، کبھی دوسرے آنگن میں دم ہلاتی اور کبھی اقتدار کی دہلیز پر بیٹھ کر اپنے حصے کے پیالے کی منتظر۔ ان کا کوئی مستقل سیاسی گھر نہیں، کوئی نظریاتی آستانہ نہیں، کوئی عوامی رشتہ نہیں، ان کا قبلہ صرف وہ سمت ہے جدھر سے اقتدار کی بو آ رہی ہو۔

بلوچستان کی سیاست کو اگر ایک بازار سے تشبیہ دی جائے تو شاید یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس منڈی میں امیدوار اپنی سیاسی قیمت کے ساتھ بیٹھے ہیں اور مقتدر حلقے اپنی ضرورت کے مطابق بولی لگاتے ہیں۔ جس کی بولی بھاری، اس کے امکانات روشن، جس کی پشت پر طاقتور سایہ، اس کے لیے اقتدار کا دروازہ کشادہ۔ یوں عوامی مینڈیٹ کی حرمت محض ایک رسمی لفظ بن کر رہ جاتی ہے اور جمہوریت کا لباس پہن کر غیر جمہوری سوداگری کا کاروبار جاری رہتا ہے۔

بلوچستان کے سیاسی منظرنامے میں ماضی قریب کے تجربات اس المیے کی گواہی دیتے ہیں۔ کبھی ایک نئی جماعت کے نام پر سیاسی بساط بچھائی گئی، کبھی کسی مرکزی و صوبائی جماعت کو مصنوعی اکثریت عطا کی گئی، کبھی ایسے چہروں کو آگے لایا گیا جن کا عوامی سیاست سے تعلق اتنا ہی کمزور تھا جتنا خشک صحرا کا دریا سے۔ چہرے بدلتے رہے، جماعتوں کے نام بدلتے رہے، مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے کردار اکثر وہی رہے۔

یہی وہ سیاسی اشرافیہ ہے جو انتخاب سے پہلے اپنی نشست، اپنا منصب اور اپنی وزارت تک کے خواب نہیں بلکہ سودے طے کرتی ہے۔ اگر کسی نمائندے کی پہلی ترجیح عوام کی خدمت کے بجائے اپنی سیاسی قیمت وصول کرنا ہو تو اس سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ بلوچستان کے محروم اضلاع، بے روزگار نوجوانوں، اجڑے ہوئے تعلیمی اداروں، خستہ حال شاہراہوں اور بنیادی سہولیات سے محروم آبادیوں کے لیے آواز اٹھائے گا۔

سوال یہ ہے کہ جو شخص اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے کے لیے عوامی اعتماد کے بجائے طاقتور حلقوں کی عنایت کا محتاج ہو، وہ اقتدار ملنے کے بعد جوابدہ کس کے سامنے ہوگا؟ عوام کے سامنے یا ان ہاتھوں کے سامنے جنہوں نے اسے ایوان تک پہنچایا؟

بلوچستان کا اصل المیہ یہی ہے کہ یہاں سیاست کو عوامی خدمت کے بجائے سرمایہ کاری سمجھ لیا گیا ہے۔ انتخابات میں سرمایہ لگایا جاتا ہے، اقتدار حاصل کیا جاتا ہے، پھر ترقیاتی بجٹ کو اس سرمایہ کاری کی واپسی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ منصوبے بنتے ہیں مگر مکمل نہیں ہوتے، سڑکیں بنتی ہیں مگر جلد شکستہ ہو جاتی ہیں، عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں مگر چند برس بعد کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہیں اور کاغذوں پر بلوچستان مسلسل ترقی کرتا رہتا ہے جبکہ زمین پر محرومی اپنی پوری قامت کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔

پی ایس ڈی پی اگر عوام کی فلاح کا آئینہ ہے تو بلوچستان کا آئینہ برسوں سے گرد آلود کیوں ہے؟ اربوں روپے کے اعلانات کے باوجود بنیادی مسائل کیوں حل نہیں ہوتے؟ ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کیوں نہیں ہوتے؟ سڑکیں، اسکول، ہسپتال اور پانی کے منصوبے بار بار بجٹ کا حصہ بننے کے باوجود عوام کی دہلیز تک سہولت کیوں نہیں پہنچا پاتے؟

یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، ان تمام سیاسی کرداروں سے بھی ہے جو ہر دور میں اقتدار کے دسترخوان پر نئی نشست تلاش کر لیتے ہیں۔

اسلام آباد کے اقتدار کی راہداریوں میں بلوچستان کے لیے سیاسی تجربات کوئی پہلی بار نہیں ہو رہے۔ ہر انتخاب سے پہلے نئی صف بندی، نئے چہرے، نئی جماعت اور نئے وعدوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ان تجربات کا بوجھ ہمیشہ بلوچستان کے عوام اٹھاتے ہیں۔ تجربہ گاہ کوئی اور نہیں بلوچستان بنتا ہے، ناکامی کا خمیازہ کوئی اور نہیں بلوچستان بھگتتا ہے۔

یہی پیراشوٹر اقتدار کی مسند پر براجمان ہو کر سوشل میڈیا کی تاک میں بیٹھے رہتے ہیں کہ اگلی سیاسی منڈی میں اپنی قیمت بڑھانے کے لیے ’’پاکستان زندہ باد اور پاک فوج پایندہ باد‘‘ کے نعروں سے اپنے سیاسی وجود کو آکسیجن فراہم کرتے رہیں۔ اسلام آباد پہنچتے ہی ببانگِ دہل کیمروں کے سامنے حب الوطنی کے نعرے بلند کرنا اور ان نعروں کے عوض اپنی اگلی نشست کی ضمانت تلاش کرنا ان کا معمول بن چکا ہے۔

مگر جب اگلی سیاسی منڈی میں کسی دوسرے پیراشوٹر کی بولی زیادہ بھاری لگ جائے اور انہیں اقتدار کے دسترخوان پر جگہ نہ ملے تو یہی خود ساختہ وفادار آہ و فغاں کرتے نظر آتے ہیں۔ جس شخص نے ان کی جگہ لینے کے لیے بھاری قیمت چکائی ہو، اسی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ گویا مسئلہ اصول، نظریہ یا عوام نہیں، اصل دکھ صرف یہ ہوتا ہے کہ اس بار سیاسی سودا ان کے ہاتھ کیوں نہ لگا۔

یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس نے بلوچستان کی سیاست کو نظریات کی بستی سے مفادات کی منڈی میں بدل دیا ہے۔ یہاں وفاداریاں مستقل نہیں، نرخ مستقل ہوتے ہیں، نعرے نظریاتی نہیں، ضرورت کے تابع ہوتے ہیں اور حب الوطنی بھی بعض سیاسی مسافروں کے ہاں اُس وقت جاگتی ہے جب اگلی نشست کا سوال سامنے آ کھڑا ہو۔

بلوچستان میں انتخابات سے پہلے وزارتوں اور مناصب کے فیصلے بند کمروں میں ہونے لگتے ہیں جو یہ جمہوریت کے لیے نہایت تشویشناک امر ہے۔ وزارت کوئی ذاتی جاگیر نہیں کہ سیاسی سودے کے عوض تقسیم کی جائے۔ یہ عوامی امانت ہے اور امانت کا منصب اہل لوگوں کو ملنا چاہیے، نہ کہ ان افراد کو جو سیاسی منڈی میں سب سے بلند نرخ لگانے کی استطاعت رکھتے ہوں۔

بلوچستان کے نوجوان اس سارے منظرنامے کو خاموش تماشائی بن کر نہیں دیکھ رہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ایک طرف ان کے ہاتھ میں ڈگری ہے اور دوسری طرف روزگار کے دروازے بند ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے شہروں میں بنیادی سہولیات ناپید ہیں، مگر ترقیاتی منصوبوں کے دعوے کاغذوں پر مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ سرکاری محکموں میں آسامیوں کے اشتہارات تو شائع ہوتے ہیں، مگر میرٹ اور شفافیت کے سوالات اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔

سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جب کوئی نوجوان ان تضادات پر سوال اٹھاتا ہے تو اس کے سوال کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے اس کی نیت پر حملہ کیا جاتا ہے۔ اختلاف کو بغاوت، سوال کو گستاخی اور تنقید کو غداری کا نام دینا کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو خاموش کرانے کے بجائے ان کی آواز سننے کی ضرورت ہے۔

ان نوجوانوں سے روزگار چھینا جائے، ان کے کاروباری راستے محدود کیئے جائیں، سرحدی تجارت کے مواقع سکڑ جائیں، مقامی صنعت اور ماہیگیری زبوں حالی کا شکار ہو، تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم رہیں، اور پھر ان سے یہ توقع کی جائے کہ وہ خاموش رہیں گے یہ توقع تاریخ کے مزاج سے ناواقفیت ہے۔

بلوچستان کے نوجوان بھیک نہیں مانگ رہے، وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ وہ خیرات نہیں، مواقع چاہتے ہیں۔ وہ کسی سیاسی مسافر کے احسان کے طلب گار نہیں، وہ ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں ان کی قابلیت ان کی سفارش ہو، ان کا ووٹ ان کی طاقت ہو اور ان کا مستقبل کسی بند کمرے میں ہونے والے سیاسی سودے کا یرغمال نہ ہو۔

اور جو لوگ ہر الیکشن سے پہلے سیاسی لباس تبدیل کر کے عوام کے سامنے نمودار ہوتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ لباس بدلنے سے کردار نہیں بدلتا۔ جماعت بدلنے سے ماضی نہیں دھلتا، اور انتخابی نشان تبدیل کرنے سے عوام کی یادداشت مٹ نہیں جاتی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کو سیاسی تجربہ گاہ سمجھنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ یہاں کے عوام کو مصنوعی سیاسی اکثریتیں نہیں، حقیقی نمائندگی چاہیئے، پیراشوٹ کے ذریعے اتارے گئے نمائندے نہیں، عوام کے درمیان سے اٹھنے والے قائد چاہیے، ترقیاتی بجٹ کی بندربانٹ نہیں، شفاف اور مکمل منصوبے چاہیئے، سیاسی سوداگری نہیں، جوابدہ جمہوریت چاہیئے۔

بلوچستان کی محرومی کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک انتخاب کا نتیجہ نہیں۔ یہ دہائیوں سے جاری سیاسی، انتظامی اور معاشی بدانتظامی کا مجموعی حاصل ہے۔ مگر اس کا علاج بھی موجود ہے، شفاف انتخابات، حقیقی عوامی مینڈیٹ، میرٹ، مقامی نمائندگی، ترقیاتی فنڈز کا شفاف استعمال، منصوبوں کی بروقت تکمیل اور منتخب نمائندوں کا حقیقی احتساب۔

ورنہ ہر چند برس بعد نئی سیاسی دکان کھلے گی، پرانے سوداگر نئے ناموں کے ساتھ بیٹھیں گے، بولیاں لگیں گی، مناصب تقسیم ہوں گے، خزانہ لٹے گا اور بلوچستان پھر وہیں کھڑا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔خستہ سڑکوں، خاموش اسکولوں، بے روزگار نوجوانوں اور ادھورے خوابوں کے ساتھ۔

بلوچستان کوئی سیاسی منڈی نہیں، ایک زندہ سرزمین ہے۔ اس کے لوگ کسی کے سیاسی سودے کا مال نہیں۔ ان کے ووٹ، ان کے وسائل اور ان کے مستقبل کی قیمت کسی بند کمرے میں طے نہیں کی جا سکتی۔

جو لوگ بلوچستان کی قسمت کی بولی لگاتے ہیں، انہیں سمجھ لینا چاہیئے کہ عوام کی خاموشی کو رضامندی سمجھنے کی غلطی تاریخ بارہا مہنگی قیمت پر وصول کرتی رہی ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں